لاہور (نیشنل ٹائمز) حکومت اور الیکشن کمیشن کو بڑا دھچکا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کا الیکشن ٹریبونلز تبدیل کرنے سے انکار، الیکشن کمیشن کی استدعا مسترد کر دی۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق پنجاب کے حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کیلئے سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے قائم کیے گئے الیکشن ٹریبونلز کو تبدیل کروانے کیلئے کوشاں ن لیگ کی حکومت اور الیکشن کمیشن کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے الیکشن ٹریبونلز میں تبدیلی کی استدعا مسترد کر دی ہے۔ پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کے معاملے پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی گزشتہ روز ملاقات ہوئی تھی۔ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے ملاقات میں الیکشن ٹریبونل کی تبدیلی کی استدعا کی۔
تاہم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال موجودہ الیکشن ٹریبونلز سے کام چلائیں، الیکشن ٹریبونلز میں تبدیلی کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ جون میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو مسترد کردیا تھا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے لاہور کی احتساب عدالتوں میں زیرِالتواء مقدمات کا نوٹس بھی لے لیا، جن احتساب عدالتوں میں ججز تعینات نہیں ہیں وہاں سے زیرِالتواء مقدمات کو دوسری عدالتوں میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔لاہور کی 10 احتساب عدالتوں میں سے صرف 3 احتساب عدالتوں میں ججز تعینات ہیں جبکہ دیگر 7 احتساب عدالتوں میں ججز تعینات نہیں ہیں، اعدادوشمار کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت نمبر 1، 4، 7 اور 8 میں کوئی بھی مقدمہ زیرِ التواء نہیں ہے تاہم احتساب عدالت نمبر 2 میں 36 مقدمات زیرِ التواء ہیں، اسی طرح احتساب عدالت نمبر 3 میں 18مقدمات زیرِ التواء ہیں جبکہ احتساب عدالت نمبر6 میں 11 مقدمات زیرِ التواء ہیں، چیف جسٹس عالیہ نیلم کے احکامات کی روشنی میں متذکرہ احتساب عدالتوں میں زیرِالتواء 65 مقدمات کو باقی تین عدالتوں میں منتقل کیا جائے گا،احتساب عدالت نمبر 2 کے مقدمات احتساب عدالت نمبر5 میں منتقل کئے جائیں گے، احتساب عدالت نمبر3 کے مقدمات کو احتساب عدالت نمبر10میں منتقل کیا جائیگا جبکہ لاہور کی احتساب عدالت نمبر6 میں زیرِالتواء مقدمات کو احتساب عدالت نمبر9 میں منتقل کرنے کی منظوری دی گئی ہے، واضح رہے کہ جن عدالتوں سے مقدمات کو منتقل کیا گیا ہے، وہاں ججز کے تعیناتی کے بعد مقدمات کو واپس انہی عدالتوں میں بھیج دیا جائیگا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم نے جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی کو عدالتِ عالیہ کی اولین ترجیح قرار دیا ہے اور احکامات جاری کئے ہیں کہ کسی بھی عدالت میں مقدمات کو غیر ضروری التواء میں نہیں رکھا جائے گا۔



