اقوام متحدہ (نیشنل ٹائمز) اقوام متحدہ کے امدادی ادارے نے کہا ہے کہ غزہ میں امداد ی کارکنوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے،اورشمالی غزہ کے علاقے میں فوجی چوکیوں سے گزرنے سے پہلیاسرائیلی حکام کے ساتھ رابطہ لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے امدادی امور (اوچا) نے کہا کہ جنگ زدہ علاقے میں رسائی کی رکاوٹیں، ایندھن کی ناکافی فراہمی، بجلی کی مسلسل بندش ،امن عامہ اور تحفظ کا فقدان معمول کے چیلنجزہیں۔ اوچا نے کہا کہ جولائی کے پہلے 16 دنوں کے دوران، ہمارے کارکنوں نے شمال میں 60 امدادی مشنزکی تیاریاں مکمل کی تھیں،تاہم ان میں سے صرف 24 کو سہولت فراہم کی گئی، 12 کو اسرائیلی حکام نے رسائی دینے سے انکار کیا اور 20 دیگر کو اسرائیلی فوجیوں نے روک دیا۔ باقی چار امدادی مشنز امدادی تنظیموں کی جانب سے لاجسٹک، آپریشنل یا سیکورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ کردییگئے۔ امدادی اداروں کیعہدہداروں کا کہنا ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے امدادی تنظیموں کو شمال تک باقاعدہ رسائی حاصل نہیں، جہاں لاکھوں لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے۔ اس سے کارکنوں کے لیے ایریز ویسٹ کراسنگ کے ذریعے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کو بھی ناممکن ہوگیا ہے۔
شمالی غزہ میں امدادکی ترسیل میں حائل مشکلات بڑھ گئی ہیں: اقوام متحدہ



