اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) سینیٹر فیصل واوڈا نے کہاہے کہ آئین بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، عدلیہ صرف تشریح کر سکتی ہے، آج جس قسم کی زبان استعمال کی گئی،9 مئی سے نہیں نکل سکتے، ستمبر، اکتوبر سیاسی طور پر بہت گرم ہو گا، دہشت گردی کا مطلب صرف بیرونی دہشت گردی نہیں، اگر اندر سے معاشی، سیاسی، ریاست اور اداروں کے خلاف دہشت گردی ہو گی تو اسے روکا جائے گا، آج فوج کے خلاف جو زہر اگل کر 9 مئی کے واقعات کو تسلیم کیا گیا،میں نے اسی شو میں کہا تھا وہ چھوڑتے جائیں گے وہ پکڑتے جائیں گے، سچ ثابت ہوا۔جمعرات کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ جب آئین میں کنفیوژن ہو تو حکومت اس پر عمل نہیں کرے گی،حکومت کے پاس اس پر عمل کرنے کے حوالے سے استثنیٰ بھی ہے،اب آئینی بحران پیدا ہو چکا ہے، اب مشکلات بڑھ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جس قسم کی زبان استعمال کی گئی،9 مئی سے نہیں نکل سکتے،اسٹیبلشمنٹ تحمل سے کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہے اور قربانیاں دے رہی ہے، دہشت گردی کا مطلب صرف بیرونی دہشت گردی نہیں، اگر اندر سے معاشی، سیاسی، ریاست اور اداروں کے خلاف دہشت گردی ہو گی تو اسے روکا جائے گا، آج فوج کے خلاف جو زہر اگل کر 9 مئی کے واقعات کو تسلیم کیا گیا،میں نے اسی شو میں کہا تھا وہ چھوڑتے جائیں گے وہ پکڑتے جائیں گے، سچ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر، اکتوبر سیاسی طور پر بہت گرم ہو گا،پی ٹی آئی سپریم جوڈیشل کونسل میں جارہی ہے ،وہ لوگ بھی جا رہے ہیں،یہ مسئلہ آئین کا نہیں آئین کی تشریح کا ہے،میرے خیال میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو گا،ملک ایک آئینی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے،آئین بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، عدلیہ صرف تشریح کر سکتی ہے۔
آئین بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، عدلیہ صرف تشریح کر سکتی ہے، فیصل واوڈا



