اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان بار کونسل کے سات ممبران نے ایڈہاک ججز کی تعیناتیوں کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔پاکستان بار کونسل کے ممبر شفقت محمود چوہان کا ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آئینی ادارہ اور آئین کے تحفظ کا ضامن ہے اسے سیاسی اکھاڑہ نہ بنایا، سابق جج مشیرعالم کا ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہ کرنے کا فیصلہ قابل تحسین اور قابل تقلید ہے۔شفقت محمود چوہان نے کہا کہ ایڈہاک ججز کی تقریوں کیخلاف پاکستان بار کونسل کا اجلاس بلایا جائے گا اور پاکستان بار کونسل کے ممبران جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرکے اپنا موقف دیں گے۔ممبر پاکستان بار کونسل عابد ساقی کا کہناتھا کہ آئینی جواز کے بغیر ایڈہاک ججز کی تقرری نظام عدل کو مفلوج بنانے کی کوشش ہے۔پاکستان بار کونسل کے ممبر عابد زبیری نے کہا کہ ایڈہاک ججز کی تعیناتیوں کے معاملے میں آئین بڑا واضح ہے، آئین کےآرٹیکل 182 کے تحت عدالت عالیہ کے جج کو ہی ایڈہاک جج بنایا جاسکتا ہے۔۔ ممبر پاکستان بار کونسل اشتیاق اے خان کا کہنا تھا کہ عہدوں کی پیش کش والے مشیر عالم کا نکتہ نظرسمجھ لیں اور آئین کا ساتھ دیں۔شہاب سرکی ممبر پاکستان بارکونسل کہتے ہیں کہ من پسند فیصلوں کے لئے ججز کی تقرری منظور نہیں۔دوسری جانب پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر کاکڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی مکمل تعداد کے باوجود ایڈہاک ججز کی تعیناتی آئین کے منافی ہے۔ممبر پاکستان بار کونسل طاہر عباسی کا کہنا تھا کہ عدالتوں اور ملک کو ایڈہاک ازم کی نہیں آئینی طریقے سے چلانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان بار کونسل کا سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تعیناتی پر شدید تحفظات کا اظہار



