کراچی (نیشنل ٹائمز)سینئر صوبائی وزیر سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے میں گڈ ٹو سی یو کی جھلک نظر آئی، ملک میں گڈ ٹو سی یو اور لاڈلا ازم کی سیاست چل رہی ہے، سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے سے کنفیوژن پیدا ہوا۔ قانون کی پاسداری ہونا چاہیے لاڈلوں کی نہیں، فیصلے کو پیپلز پارٹی کے قانونی ماہرین دیکھیں گے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدالتی فیصلے ناچاہتے ہوئے قبول کیے ہیں، اور ان فیصلوں کا سب سے بڑا نقصان بھی ہماری جماعت نے ہی اٹھایا ہے لیکن پھر بھی ہم ہر حال میں ہم سمجھتے ہیں کہ قانون کی پاسداری ہونی چاہیے نا کہ لاڈلوں کی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آج کے فیصلے میں بہت چیزیں دیکھیں، یہ مبہام سے بھرا فیصلہ ہے، ہماری لیگل ٹیم اس کو دیکھے گی، یہ حقیقت ہے کہ اس فیصلے سے کنفیوژن ہوئی ہے، وفاقی حکومت نظرثانی پر جاتی ہے یا نہیں وہ ان کا صوابدید ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو بھی بلڈوز کیا گیا ۔ملک میں لاڈلہ ازم ابھی بھی چل رہا ہے، اس وقت الیکشن کمیشن کا سربراہ وہ ہے جس کو عمران خان نے تعینات کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ بہترین سربراہ ہیں، آج کے فیصلے سے گد ٹو سی یو کی جھلک نظر آئے گی، گد ٹو سی یو ایک لاڈلے کو کہا گیا تھا اور اس کی تویل تاریخ ہے، آج پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا گیا تھا، اسی عدالت نے کہا تھا کہ پشاور کی بی آر ٹی میں کرپشن ہوئی تو سپریم کورٹ کے بندیال صاحب نے اس فیصلے کو کالعدم دے دیا تھا۔شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان کی پشت پناہی کی اور ان کا سہولتکار بنا، ایک وہ شخص جو پاکستان کا جھوٹا ترین مشہور تھا تو اس شخص کو صادق اور امین کا ٹائٹل دیا گیا اور مخالفین کے خلاف مقدمے بنائے گئے، 2018 میں جیسے آر ٹی ایس بیٹھے اور مخالفین کو نشانہ بنایا گیا اس کی سہولت کاری بھی باقب نثار نے کی۔ ا ن کا کہنا تھا کہ گڈ ٹو سی یو کی سیاست کو 2018 میں استعمال کیا گیا، ثاقب نثار نے عدالتی کرسی کے بنا پر ملک میں ظلم مچایا تھا، جب 9 مئی کا واقعہ ہوا تو خان ساحب کو مرسڈیز میں پیش کیا گیا اور گڈ ٹو سی یو بولا گیا اور کہا کہ خان صاحب آپ بس مذمت کردینا۔ان کا کہنا تھا کہ آج پی ٹی آئی نے انصاف نہیں مانگا مگر انہیں ملا، اگر یہی روایت ہے کہ فارن فندنگ کیس میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا، اس میں عمران خان نے جھوٹ بولا تو پھر وہ پارٹی کیسی چلتی رہی؟ ہم آئین اور قانون کو کہاں چھوڑیں؟ عمران خان کے مقدمے کے فیصلے میرٹ پر ہونے چاہیے، درخواست کسی اور کی تھی اور کسی اور کے حق میں فیصلہ آگیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی غیر آئینی طریقے سے حکومتیں ختم کی گئیں۔ ان کو عدالتوں سے انصاف نہیں ملا۔ محترمہ ملک کے عوام کے لیے کام کرتی تھیں۔ صدر آصف علی زرداری کو 12 سال تک جیل میں رکھا گیا۔
عدالتی فیصلے میں گڈ ٹو سی یو کی جھلک نظر آئی، شرجیل میمن



