کراچی (نیشنل ٹائمز) ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنونئیر رہنماء مصطفی کمال نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں آیا جو مانگا ہی نہیں گیا ، اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے، فیصلے کے خلاف ریویو میں جانا چاہیے۔جمعہ کے روز کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے جس فیصلے کا انتظار تھا وہ آگیا، مزید کہا کہ یہ سارا تماشا 2018سے شروع ہوا۔ جس کا سوشل میڈیا مضبوط ہے، اس کا راج ہے اس کے لیے فیصلے ہیں، آج کے فیصلے سے جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا جس پارٹی کا سربراہ ہی وہاں سے نہیں لڑرہا اس میں ایک پارٹی کو پہلے ضم کیا گیا، مقدمہ چل رہا تھا سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو دی جائیں، آئین وقانون اس فیصلے میں نظر نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ 2018میں یہ ڈرامہ شروع ہوا، چیف جسٹس ثاقب نثار ڈیم بنارہے تھے،حنیف عباسی کو منشیات کے کیس میں بندکر رہے تھے، ان کے بعد والے چیف جسٹس گڈٹوسی یو کے کلمات ادا کرتے رہے، ہم جیسے لوگ بے قصور ہی جائیں تو آپ سرزنش کرتے ہیں۔مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ایک عام آدمی کا عدالتوں میں کوئی پرسان حال نہیں، آئین وقانون کی تھوڑی سی بالادستی رہ گئی تھی، آج بتایا گیا اگر آپ کو گالیاں دینا آتی ہیں تو پھر پاکستان ،عدلیہ اور ادارے آپ کے ہیں، آپ کو حق نہیں ہے پاکستان میں کسی غلط کو غلط کہنا۔رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ہمارا کسی سے نظریاتی اختلاف ہوسکتا ہے، ہم آئے ہوئے فیصلے پر اپنی رائے دینے کا حق رکھتے ہیں، ہم کب اتنے اچھے پاکستانی بنیں گے اور ایسا ریلیف کب دیا جائے گا، جوڈیشری کی تاریخ میں آج کا دن ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم آئندہ دنوں میں اور زیادہ پیچیدگیاں دیکھ رہی ہے، اس فیصلے کے خلاف ریویو میں جانا چاہیے، ہماری سیاسی پارٹیوں کے درمیان ابھی کوئی مشورہ نہیں ہوا، یہ فیصلہ آئین وقانون کی رو سے صحیح نہیں ہے، پی ٹی آئی ایک پاپولر جماعت ہے اس کو بنیاد بنایا گیا، آئین میں پاپولر کا خانہ ڈالا جانا چاہیے۔ اس پہلے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ڈیم بنا رہے تھے، حنیف عباسی کو بند کر رہے تھے، رانا ثنا اللہ کو منشیات میں پکڑ رہے تھے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں آیا جو مانگا ہی نہیں گیا، مصطفی کما ل



