اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز) وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی 9 مئی کو جس طرح ریاست پر حملہ آور ہوئی پھر اسی تیاری میں لگے ہوئے ہیں،ملک میں افراتفری اور فتنہ پھیلانا کہاں کا سیاسی مقصد ہے؟ کمشنر کے پاس جلسہ منسوخ کرنے کیلئے یقینا کوئی انٹیلی جنس رپورٹ ہوگی۔ انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت نہ دینا انتظامی معاملہ ہے، اس حوالے سے متعلقہ اتھارٹیز جوابدہ ہیں، یقینا ان کے پاس کوئی انٹیلی جنس رپورٹ ہوگی کہ جلسے کا اہتمام کسی واقعے کا سبب بن سکتا ہے ،پی ٹی آئی کا محرم الحرام کے آغاز جلسہ کرنا کوئی مناسب فیصلہ نہیں تھا۔
ان کا جلسہ کوئی ملک میں استحکام کیلئے نہیں تھا سیاسی افراتفری کیلئے تھا، جلسے کا کوئی مقصد ہوتا ہے لیکن ان کا مقصد افراتفری اور امن وامان کی صورتحال پیدا کرنا ہے، پی ٹی آئی کا مقصد کبھی بھی نیک نہیں ہوسکتا۔
کوئی شک نہیں کہ جلسے جمہوری عمل ہے، جلسے کے ذریعے کسی معاملے کا پیغام دینا ہوتا ہے، لیکن پی ٹی آئی کا جومقصد ہے وہ ملک میں رول آف لاء پر یقین نہیں رکھتے، 9 مئی کو جس طرح ریاست پر حملہ آور ہوئے، اب پھر اسی تیاری میں لگے ہوئے ہیں، کیا ان کو اجازت دی جائے کہ وہ دوبارہ ایک اور9 مئی ملک پر مسلط کریں؟ملک میں افراتفری اور فتنہ پھیلانا کہاں کا سیاسی مقصد ہے؟کمشنر کے پاس یقینا متعلقہ ایجنسیز کی رپورٹ ہوگی۔
جو لوگ بزنس مقصد اور معیشت کو بڑھانے کیلئے آئیں گے ان کو فول پروف سکیورٹی دیں گے۔ پی ٹی آئی کو 2014 سے دیکھ لیں ان کا 10سالوں میں کوئی ایک بھی جمہوری عمل نہیں ہے، پی ٹی آئی کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی جانی چاہیئے، لیکن اگر ماحول کو بگاڑیں گے تو بندوبست ہونا چاہیئے۔کیونکہ وہ اے پی سی میں صرف معاملے کو بگاڑنے کیلئے آئیں گے۔



