اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارہ کہو بائی پاس منصوبے پر آئندہ سماعت تک مزید کام کرنے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسرز نے بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کی زمین استعمال کر کے بھارہ کہو بائی پاس بنایا جا رہا ہے۔عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا بھارہ کہو بائی پاس عوامی منصوبہ نہیں ہے؟ کیا قائد اعظم یونیورسٹی کی عمارت گرا کر سڑک بنا رہے ہیں؟درخواست گزار کے وکیل کاشف علی ملک نے کہا کہ بھارہ کہو بائی پاس منصوبہ ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہے، سڑک قائد اعظم یونیورسٹی کے اندر سے گزاری جا رہی ہے۔دورانِ سماعت سی ڈی اے کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ منصوبہ رک گیا تو ہمیں ناقابل تلافی نقصان ہو گا، یونیورسٹی انتظامیہ کی منظوری سے بھارہ کہو بائی پاس شروع کیا گیا۔سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ ہمیں قائد اعظم یونیورسٹی نے زمین کا قبضہ بھی دے دیا ہے، ہم نے یونیورسٹی سے 200 کنال زمین لے کر 225 کنال متبادل زمین دی ہے۔عدالت نے سی ڈی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سی ڈی اے کے پاس قائد اعظم یونیورسٹی کو دی گئی زمین کا قبضہ ہے؟سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ ہم نے جو زمین قائد اعظم یونیورسٹی کو دی ہے وہ تمام نقائص سے پاک ہے، قائد اعظم یونیورسٹی ایک ارب روپے سے زائد کی نادہندہ ہے۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بات نہ کریں، سی ڈی اے جس کے خلاف جانا چاہے اسے نادہندہ بنا دیتا ہے، لگتا ہے قائد اعظم یونیورسٹی کو زیادہ قیمتی زمین واپس دی جا رہی ہے، قائد اعظم یونیورسٹی کی عمارت متاثر نہیں ہو رہی، پھر کیسے اسٹے آرڈر دے دیں؟اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ وائس چانسلر کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں کہ کیا انہیں دی گئی زمین قبول ہے؟ یونیورسٹی کا فیصلہ کسی فرد نے نہیں انتظامیہ نے کرنا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ بھارہ کہو بائی پاس منصوبے پر درخت کاٹ کر ماحول تباہ کیا جا رہا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ماحولیاتی ایجنسی سے منصوبے کا ماحولیاتی جائزہ کرایا گیا؟سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کی تمام اداروں سے منظوری لی گئی ہے۔عدالت نے کہا کہ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے منظوری ہونے تک منصوبے پر کام روک دیں۔
بھارہ کہو بائی پاس منصوبے پر مزید کام سے روک دیا گیا



