بیجنگ (نیشنل ٹائمز) چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین مجبوری میں آخری حربے کے طور پر تائیوان پر طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، حالانکہ پرامن اتحاد اس کا پہلا انتخاب ہے۔
سن ژیلی نے ہفتہ کو بیجنگ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ چین اور تائیوان کا دوبارہ اتحاد تائیوان کے ہم وطنوں سمیت سبھی کے مفاد میں ہے۔
سن نے کہا کہ بیجنگ تائیوان کو پرامن طریقے سے اپنے کنٹرول میں لانے کی تمام کوششیں کرے گا۔ لیکن چین اس بات کو برداشت نہیں کرے گا کہ جزیرے پر موجود کچھ سخت گیر اور ان کے بیرون ملک حمایتیوں کی حمایت سے مکمل آزادی حاصل کی جائے۔
دو چینی مزدوروں کے قتل کا الزام، فوج کے 2 کرنلوں سمیت 6 افراد کو سزائے موت سنادی گئی
الجزیرہ کے مطابق تائیوان کو کئی دہائیوں سے چین کے حملے کا مسلسل خطرہ لاحق ہے، چین کا دعویٰ ہے کہ ایک دن ضرورت پڑنے پر طاقت کے ذریعےتائیوان کا کنٹرول حاصل کرلیا جائے گا۔ چین کے ساتھ کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب علیحدگی پسند سائی انگ وین 2016 میں تائیوان کی پہلی بار صدر منتخب ہوئیں اور انہوں نے تائیوان کو سفارتی سطح پر چین سے الگ کرنے کی کوشش کی۔



