لاہو (نیشنل ٹائمز)پاکستان تحریک انصاف کا دوہر ا معیار کھل کر سامنے آچکا ہے ، ایک جانب تو عمران خان اپنے جلسے جلوسوں میں میرٹ اور قانون کی باتیں کر تے ہیں اور دوسری جانب پی ٹی آئی کی سینئر قیادت قانون کی دھجیاں اڑارہی ہے۔ عمران خان مسلم لیگ (ن)پر من پسند تعیناتیوں کے الزامات لگاتے ہیں لیکن پی ٹی آئی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد میرٹ اور قانون کے مطابق لگائے گئے افسران کو عہدےسے ہٹانے کیلئے پنجاب کے انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد ڈی سی شیخوپورہ کے رویہ سے ناخوش اور آنیوالے الیکشن میں اس کی عدم موجودگی کی خواہاں ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی پر دبائو ڈال رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ڈی سی شیخوپورہ کا وہاں سے یا تو تبادلہ کر دیا جائے ورنہ اسے 16اکتوبر تک چھٹی دیدی جائے ۔پی ٹی آئی کے عہدیدار کی صریحاََ انتظامی مداخلت ان کے اس بیانیے کی نفی ہیں جو وہ ن لیگ پر گاہ بگاہ منسلک کرتی ہیں۔ ان کا اپنا رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے دوہرے معیار ہیں۔ وہ اس بیانیہ کو پروان چڑھاتے ہیں کہ ان کی اپنی پارٹی میرٹ اور قانون کی پاسداری چاہتی ہے جب کہ حقیقتاََ ان کا عمل اس کے بالکل برعکس ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کی مداخلت کا واضح ثبوت ان کا اصل چہرہ ظاہر کرتا ہے۔



