اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا لاہورچیمبر آف کامرس سے خطاب میں کہنا تھا کہ ملک مسائل میں گھرا ہواہے ، شہبازشریف کو باگ ڈور ملی توپاکستان کے پاس ساڑھے 10 ارب ڈالر تھے۔مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ اپریل میں 3 ارب ڈالر ادائیگیوں میں مزید کم ہوگئے، آئی ایم ایف کے پروگرام میں نہ جاتے تو دیوالیہ ہو جاتے، اس وقت ہمیں پتہ نہیں تھاحکومت میں رہیں گے یا نہیں،آئی ایم ایف نگران حکومت سے بات نہیں کرتی اس لیے حکومت میں رہنے کا فیصلہ کیا، مزید رقم ادھار لینے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جاناپڑا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم خیالی دنیا میں نہیں رہ سکتے، حکومت میں آنے سے پہلے ہمیں مسائل کا پتہ تھا، ہم پی ٹی آئی کی طرح یہ نہیں کہیں گےہمیں ملکی حالات معلوم نہیں تھے، 30 ارب کی ایکسپورٹ کرنیوالے ملک کو 80ارب ڈالرکی درآمدات نہیں کرنی چاہیے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف نے کہا ہے فیول سبسڈی ختم کرو ، سعودی وزیر نے کہا آپ تو ہم سے سستا ڈیزل بیچ رہے ہو، آج 20 کروڑ ڈیزل کم آرہاہے ،لوگوں نے ذخیرہ کرلیاہے، آج ڈیزل پر ساڑھے سات روپے ٹیکس ہے۔
آئی ایم ایف نے فیول سبسڈی ختم کرنیکا کہا، سعودی وزیر بولے ہم سے سستا ڈیزل بیچ رہے ہو: مفتاح



