ڈینگی بخار کی علامات اور انتباہی نشانیاں جان لیں

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)ڈینگی بخار مچھروں سے پھیلنے والی عام بیماری ہے اور پاکستان کے مختلف حصوں میں بارشوں کے بعد اس کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔اس بیماری میں تیز بخار کے ساتھ فلو جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔البتہ زیادہ بیمار ہونے پر جریان خون اور موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔محققین کی جانب سے ڈینگی ویکسین پر کام کیا جارہا ہے مگر ابھی تک وہ تیار نہیں ہوسکی تو جن علاقوں میں یہ بیماری عام ہے وہاں تحفظ کا بہترین طریقہ مچھروں سے بچنا ہے۔مگر کوئی ڈینگی کا شکار ہوجائے تو اس کو علم کیسے ہوگا؟ تو اس کی علامات جان لیں۔علاماتبیماری کے آغاز پر زیادہ تر افراد میں علامات سامنے نہیں آتیں۔ڈینگی وائرس سے متاثر مچھر کے کاٹنے کے بعد 4 سے 10 دن بعد جب مریض میں بیماری کی علامات ظاہر ہوتی ہیں تو اکثر افراد اسے دیگر بیماریوں جیسے فلو کا نتیجہ سمجھ لیتے ہیںڈینگی بخارکے ساتھ سردرد، مسلز، ہڈیوں یا جوڑوں میں تکلیف، متلی، قے، آنکھوں کے اندر تکلیف، غدود سوج جانا اور خارش جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔بیشتر مریض ایک ہفتے کے اندر ٹھیک ہوجاتے ہیں، مگر کئی بار علامات کی شدت بڑھ جاتی ہے اور اس صورت میں یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ڈینگی کی شدت اس وقت بڑھتی ہے جب شریانوں کو نقصان پہنچے اور ان سے خون کا رساؤ ہونے لگے، جبکہ خون کو جمنے میں مدد فراہم کرنے والے خلیات (پلیٹلیٹس) کی تعداد کم ہوجائے۔اس کا نتیجہ جسم کے اندر جریان خون، اعضا کے افعال فیل ہونے اور موت کی شکل میں نکل سکتا ہے۔ڈینگی کی سنگین شدت جان لیوا ہوتی ہے اور اس کی انتباہی علامات بخار اترنے کے ایک یا 2 روز بعد ظاہر ہوسکتی ہیں جن میں پیٹ میں شدید درد، بار بار قے، ناک یا مسوڑوں سے خون بہنا، پیشاب، قے میں خون، سانس لینے میں مشکل محسوس ہونا یا سانس پھول جانا، تھکاوٹ اور چڑچڑا پن قابل ذکر علامات ہیں۔ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ ڈینگی کی شدت بڑھ جائے تو موت کا خطرہ ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں فوری طور پر طبی امداد کے لیے رجوع کیا جانا چاہیے۔خاص طور پر اس وقت جب آپ کے ارگرد ڈینگی کے کیسز سامنے آرہے ہوں تو بخار ہونے اور دیگر علامات نظر آنے پر ڈاکٹر سے رجوع کرکے ٹیسٹ کرانا چاہیے۔اگر آپ کو ماضی میں ڈینگی کا سامنا ہوچکا ہے تو دوبارہ اس بیماری کے شکار ہونے پر شدت زیادہ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے جبکہ مداقعتی نظام کمزور ہونے پر بھی یہی خطرہ ہوتا ہے۔یہ یاد رکھیں کہ ڈینگی ایک سے دوسرے فرد میں منتقل نہیں ہوتا بلکہ مچھروں کے کاٹنے سے ہی ہوتا ہے۔احتیاطی تدابیرڈینگی سے بچاؤ کے لیے موسکیٹو repellentsکا استعمال کریں۔گھر میں اے سی ہو تو اسے چلائیں، کھڑکیوں اور دروازوں سے مچھروں کو آنے سے روکنے کی کوشش کریں، آستینوں والی قمیض اور پیروں میں جرابیں پہنے۔اگر گھر میں کسی کو ڈینگی ہوگیا ہے تو اپنے اور دیگر گھر والوں کے تحفظ کے لیے بہت زیادہ احتیاط کریں کیونکہ مریض کو اگر کوئی عام مچھر بھی کاٹ لے تو ڈینگی وائرس اس میں منتقل ہوجاتا ہے جس کے بعد وہ مچھر وائرس کو آگے پھیلا سکتا ہے۔



  تازہ ترین   
ایران کا امریکی اسرائیلی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا اعلان
براڈ پیک حادثہ، 8 کوہ پیماؤں کی لاشیں مل گئیں، 2 تاحال لاپتہ، تلاش جاری
عراقچی کا برطانیہ کو انتباہ، ایران پر حملے میں تعاون ناقابلِ قبول قرار
ایران جنگ میں امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی ہوئی ہے: امریکی میڈیا
کیلیفورنیا میں امریکی ایف-35 بی جنگی طیارہ حادثے کا شکار، پائلٹ محفوظ
ایرانی اشتعال دلا رہے ہیں، ایران پر بھرپور فوجی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں: ٹرمپ
حماس کے مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے تک غزہ سے فوج کا انخلا ممکن نہیں: اسرائیل
دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، ورنہ ہم ختم کر دیں گے: ترجمان پاک فوج





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر