اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف درخواست کی سماعت کے موقعے پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر نیب قانون غلط ہے تو اسمبلی میں بل کیوں نہیں لاتے؟نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ترامیم کسی آئینی شق سے متاثر نظر نہیں آ رہیں، قانون پارلیمنٹ نے منظور کیا ہے اس کا احترام بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بھی بتائیں کہ نیب نے ملکی معیشت میں کیا حصہ ڈالا ہے؟ سپریم کورٹ نے نیب قانون میں ترامیم پر نیب سے جواب طلب کر لیا ہے۔قومی اسمبلی نے نیب آرڈیننس میں مزید ترامیم کا بل منظور کرلیا- Geo News Urduسماعت کے موقعے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہماری معیشت اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے، عدالت نے مفاد عامہ کو بھی دیکھنا ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے گناہ معاف کرالیے، اگلی آئے گی وہ اپنے کرالے گی۔انہوں نے کہا کہ اس کیس میں اگر بنیادی حقوق متاثر ہونے کا معاملہ ہے تو سنیں گے ورنہ عدالت کا دائرہ کار نہیں بنتا۔



