اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)کنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے جسے باہمی فیصلوں سے مل کر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔بہادرآباد مرکز پر کنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالدمقبول صدیقی نے جنر ل ورکرز اجلاس سے خطاب کر تے ہو ئے کہاکہ ہمیں اس سوال کا جواب دیا جائے کہ اند رو ن سندھ اور کر اچی میں جہاں پیپلز پا رٹی کی یو سی تھی وہا ں 20 ہزار افراد کی یو سی بنا دی گئی اور ہماری یو سی 90ہز ار افراد پر بنائی گئی ہیں، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ 90ہزار میں تو 3یو سیز بن سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان ایک تحریک ہے اور اس تحریک میں شہد اء کی بے شمار قر بانیاں شامل ہیں، ان کا خون ہما ری بنیادوں میں مو جود ہے جو لو گ اس تحریک میں شامل ہوں وہ کھلے دل کے ساتھ آئیں اور تنظیمی ڈسپلن کی سختی کے ساتھ پابندی کر یں۔خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ آج ہم نے سپر یم کو رٹ سمیت ملک کے تمام فورمز پر بتا دیا ہے کہ سندھ کے ساتھ پھر زیا دتی کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت ایم کیو ایم کے مطالبات جعلی مردم شماری کے چار سال بعد ہی نئی مر دم شماری کر نے پر راضی ہو گئی ہے۔ ڈپٹی کنوینر و سابق میئر کر اچی وسیم اختر نے کہا کہ ہماری کو شش تھی کہ 140-A کے تحت بلدیا تی ادارو ں کو مضبو ط کیا جائے، سندھ حکومت نے ایم کیو ایم کو نقصان پہنچانے کیلئے من پسند حلقہ بندیاں کی جس سے شہری سندھ کا براہ راست نقصان ہوگا۔
’سپر یم کورٹ سمیت تمام فورمز پر بتا دیا کہ سندھ کیساتھ پھر زیادتی کی جا رہی ہے‘



