اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)اقوام متحدہ نے دنیا بھر کے ممالک سے انٹرنیٹ سروس کی بندش یا اس میں مداخلت روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے باعث سنگین اور خطرناک نتائج کا سامنا ہوسکتا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے ایک نئی رپورٹ میں کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش سے لاکھوں افراد کی زندگیوں اور انسانی حقوق پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس بندش کے نتیجے میں اسپتال ایمرجنسی میں ڈاکٹروں سے رابطہ نہیں کرپاتے، ووٹرز امیدواروں کے بارے میں جاننے سے قاصر ہوجاتے ہیں اور پرامن مظاہرین کسی پرتشدد حملے پر مدد کے لیے کال نہیں کرپاتے۔رپورٹ کے مطابق یہ انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکشنز سروسز کی بندش کے محض چند اثرات ہیں۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر مشیل باشلیٹ نے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کی بندش اس وقت ہورہی ہے جب بیشتر انسانی حقوق کے لیے ڈیجیٹل دنیا ضروری بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کو بند کرنے سے مالی اور انسانی حقوق دونوں کے حوالے سے ناقابل اندازہ نقصان ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کا ممالک سے انٹرنیٹ کی بندش نہ کرنے کا مطالبہ



