کانپور،نئی دہلی،دیوبند(نیشنل ٹائمز) بھارتی پولیس نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے نبی کریم ؐ کے گستاخانہ بیانات پر نوپورشرما اور نوین کمار کے خلاف مقدمات درج کرلئے جبکہ بھارتی شہرکان پور میں نبی کریم ؐ کی شان اقدس میں گستاخی کیخلاف احتجاج کرنیوالے مسلمانوں پرانتہاپسند پولیس ٹوٹ پڑی،مسلمان نوجوانوں کوبدترین تشدد کا نشانہ بنایا اورمتعدد کو گرفتار کر لیا۔
دوسری جانب اتحاد علماء ہندنے وزیر اعظم نریندر مودی سے آنحضورؐ کی شان میں گستاخی کرنیوالی بی جے پی ترجمان نو پور شرما اور نوین جندا ل کو گرفتار کرکے پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی پولیس نے بی جے پی رہنماؤں نوپور شرما اور نوین کے خلاف مقدمہ دو ہفتے بعد درج کیا ہے، گستاخانہ بیانات کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم وغصہ تھا، اور بھارتی پولیس کو رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج نہ کرنے پر تنقید کا سامنا تھا۔واقعے کے خلاف اترپردیش کے ضلع کانپور میں شدید احتجاج دیکھا گیا اور ہڑتال کی گئی۔ مشتعل افراد کی جانب سے پتھراؤ کے واقعات سامنے آئے، پولیس نے ہنگامہ آرائی کے الزام میں 17 افراد کو حراست میں لے لیا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس معاملے پر روایتی انداز میں مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے اور کسی بھی قسم کی معذرت سے گریز کیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتحاد علماء ہند کے قومی صدر مولانا قاری مصطفی نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ نو پور شرما اور نوین جندل نے حضرت محمد مصطفی ؐ کی شان میں گستاخی کی ہے جسے کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گاکیونکہ ان کے اس عمل سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ مولانا قار ی مصطفی نے کہا کہ ایسے لوگوں کو پھانسی سے کم سزا نہیں ہونی چاہیے۔



