راولپنڈی (نیشنل ٹائمز) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو پورے ملک سے لوگ نکلیں گے۔ ہم نیوز کے مطابق سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان اور میری ناراضگی کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں ، کارکنوں سے کہوں گا ایسی من گھڑت خبروں پر کان نہ دھریں ، حکومت عمران خان کو گرفتار کرنے کا سوچے بھی نہ کیوں کہ عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو لوگ پورے ملک سے نکلیں گے۔
قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ایک بار پھر سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کا عندیہ دیا تھا ، انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کواسلام آباد واپسی پرخوش آمدید کہتے ہیں ، قانون کے تحت ان کوسکیورٹی فراہم کی جارہی ہے ، عدالتی ضمانت ختم ہونے پر قانون کے مطابق فراہم کی گئی یہی سکیورٹی عمران نیازی کو بڑی خوش اصلوبی سے گرفتار کرلے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران نیازی ملک میں ہنگامہ آرائی ، فتنہ وفساد ، افراتفری پھیلانے اور وفاق پر مسلحہ حملوں کے جرائم کے تحت درج 2 درجن سے زائد مقدمات میں بطور ملزم نامزد ہیں ، ملک میں فساد برپا کرنے والا شخص کس طرح ایک جمہوری معاشرے میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوسکتا ہے؟ یہ پوری قوم کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بتاتے چلیں کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جان کو خطرے کے پیشِ نظر بنی گالہ کے اطراف سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ، ترجمان اسلام آباد پولیس نے بتایا ہے کہ بنی گالہ کے اطراف سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے ، بنی گالہ میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی سخت چیکنگ جاری ہے، مشکوک سرگرمی دیکھی جائے تو فوری 15 پر اطلاع دی جائے ۔
انہوں نے کہا کہ پولیس عمران خان کو قانون کے مطابق مکمل سکیورٹی فراہم کرے گی ، اسی لیے اسلام آباد پولیس نے بنی گالہ میں خصوصی سکیورٹی تعینات کردی ، پولیس افسران غیر قانونی سرگرمی سے نمٹنے کے لیے چوکس ہیں ۔ خیال رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اسلام آباد آنے کا فیصلہ کرلیا ، عمران خان خیبرپختونخواہ ہاؤس میں کورکمیٹی اجلاس کی صدارت کریں گے ، اجلاس میں سیاسی صورتحال اور آئندہ لانگ مارچ سے متعلق مشاورت کی جائے گی،عمران خان 25 جون تک راہداری ضمانت پر ہیں ۔
بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم نے کے پی ہاؤس میں پی ٹی آئی کورکمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے ، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کور کمیٹی اجلاس کی صدارت کریں گے، کور کمیٹی اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔



