اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)یورپی خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے متنبہ کیا ہے کہ روس کی یوکرین پر جارحیت کے باعث دنیا میں خوراک کا ایسا بحران آرہا ہے جو بہت سے ممالک میں بھوک پیدا کردے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے اردن کے دورے کے موقع پر ای یو، اردن ایسوسی ایشن کونسل کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ میں پہلے 2020 کی ابتدا میں اردن آیا تھا۔ لیکن اب میں آپ کے ملک کا دورہ جنگ کے عین وسط میں اس وقت کر رہا ہوں جب امکان ہے کہ خوراک کا بحران دنیا کے بہت سے ممالک میں بھوک پیدا کردے گا۔انہوں نے ایپوکلیپسس کے تین گھوڑوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا اس وقت پستگی، جنگ اور بھوک کا سامنا کرنے جارہی ہے۔انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ یورپی یونین اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر یوکرین کے خوراک کے ذخائر وہاں سے نکالنے اور اس کی سمندری بندرگاہوں کو کھولنے کیلئے کوشاں ہے تاکہ دنیا کی ایک بڑی آبادی کو خوراک کی کمی کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ یوکرین یورپ کے علاوہ افریقہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے کئی ممالک کو اس جنگ سے قبل 50 لاکھ ٹن ماہانہ خوراک فراہم کر رہا تھا۔لیکن اس مئی میں وہ صرف 6 لاکھ ٹن ہی فراہم کر سکا ہے۔ خوراک کی سپلائی کی اس کمی سے کوئی یوکرین میں یہ گندم نہ کھا سکے گا اور دوسری جانب کوئی اس خوراک کے نہ ملنے کے باعث بھوک کا شکار ہوجائے گا۔
یوکرین پر روسی جارحیت سے دنیا بھر میں خوراک کا بحران پیدا ہوگا، یورپی یونین



