اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان تحریک انصاف نے گورنر پنجاب کی برطرفی چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ اے آر وائی نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے عمر سرفراز چیمہ کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹائے جانے کا معاملہ عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیوں کہ پی ٹی آئی عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی کو غیر قانونی سمجھتی ہے ، تحریک انصاف کا موقف ہے کہ گورنر پنجاب کو صرف صدر ہی ہٹاسکتا ہے ، وزیراعظم کے پاس گورنر کو عہدے سے ہٹانے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کے گورنر پنجاب کی برطرفی کے فیصلے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جائے گی ۔ خیال رہے کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ، اس حوالے سے سینیئر جوائنٹ سیکرٹری کیبنٹ تیمور تجمل کے دستخط سے جاری نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ گورنر پنجاب کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر عہدےسےہٹایا گیا ، اسپیکر پنجاب اسمبلی قائم مقام گورنر کے فرائض انجام دیں گے ، گورنرپنجاب کو ہٹائےجانے کے بعد ان سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ۔بتاتے چلیں کہ گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےگورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانےکی وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کردی تھی ، ایون صدر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت کا کہنا ہےکہ گورنر پنجاب کو صدر پاکستان کی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جاسکتا ، آئین کے آرٹیکل 101کی شق 3 کے مطابق گورنر ، صدرکی رضامندی تک اپنے عہدے پر رہےگا ، گورنر پر بدانتظامی کاکوئی الزام ہے نہ کسی عدالت سے سزا ہوئی ، گورنر پنجاب نے نہ ہی آئین کے خلاف کوئی کام کیا، اس لیے انہیں ہٹایا نہیں جا سکتا ، صدرکا فرض ہے کہ آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کرے ۔صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر رپورٹ ارسال کی تھی، گورنر پنجاب نے وزیراعلٰی پنجاب کے استعفے اور وفاداریوں کی تبدیلی پر رپورٹ ارسال کی تھی ، مجھے یقین ہے کہ گورنرکو ہٹانا غیر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا، آرٹیکل 63 اے ممبران اسمبلی کو خریدنے جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے ، اس مشکل وقت میں دستور پاکستان کے اُصولوں پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہوں، گورنر پنجاب کو ہٹانے کی وزیر اعظم کی ایڈوائس کومسترد کرتا ہوں-
تحریک انصاف کا گورنر پنجاب کی برطرفی چیلنج کرنے کا فیصلہ



