اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز)سری لنکن شہری پریانتھا کمارا قتل کیس میں سزائے موت پانے والے مجرم نے انسداد دہشتگردی عدالت کا فیصلہ چیلنج کر دیا۔سزائے موت پانے والے مجرم حافظ محمد تیمور نے انسداد دہشتگردی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں بریت کی اپیل دائر کر دی۔حافظ محمد تیمور کی جانب سے دائر اپیل میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ شہادت کی بنیاد پر ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، الزام ہے کہ حافظ محمد تیمور نے سری لنکن شہری کے سر پر اینٹ ماری، فارنزک ایجنسی کی رپورٹ میں اینٹ مارنے سے متعلق رپورٹ منفی ہے۔اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چشم دید گواہوں کی شہادتیں بھی قانونی تقاضے پورے نہیں کرتیں، سری لنکن شہری کو قتل کرنے کا وقوعہ باقاعدہ منظم منصوبے کے تحت نہیں تھا بلکہ پریانتھا کمارا کے قتل کا وقوعہ حادثاتی تھا۔سزائے موت پانے والے مجرم کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت نے ٹھوش شواہد کے بغیر 6 افراد کو سزائے موت سنائی۔وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کسی ہجوم میں ہر ملزم کے کردار کی شناخت نہیں ہو سکتی، ہجوم میں ہر ملزم کے کردار کی شناخت نہ ہونے پر اسے سزا بھی نہیں دی جا سکتی۔درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت انسداد دہشتگردی کورٹ کا سری لنکن شہری کو قتل کے جرم میں ملزم کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔
پریانتھا کمارا قتل: سزائے موت کے مجرم نے فیصلہ چیلنج کر دیا



