کراچی ( نیشنل ٹائمز) سپریم کورٹ کے فیصلے کی جانب سے گذشتہ روز اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دئیے جانے اور قومی اسمبلی بحال کرنے کے فیصلے کے بعد آج ڈالر کی قدر میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔گذشتہ ہفتے ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا تھا۔انٹربینک میں 5 ہفتے تک اونچی اڑان کے بعد ڈالر کی قیمت 3 روپے 48 پیسے کم ہو گئی،سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رحجان رہا۔5 ہفتوں کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی ہوئی، پاکستان روپے کے مقابلے قدر میں 3 روپے 48 پیسے کمی کے بعد ڈالر 184 روپے 70 پیسے پر فروخت ہوا۔جب کہ سٹاک مارکیٹ میں بھی استحکام آنے لگا، 457 پوائنٹس اضافے سے 100 انڈیکس 44 ہزار 244 کی سطح پر پہنچ گیا۔ قبل ازیں بتایا گیا کہ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔گزشتہ ہفتے کے دوران ریکوڈک منصوبے کے تصفیے کی مد میں بھاری ادائیگی کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر18 ارب ڈالرز جبکہ مرکزی بینک کے ذخائر12ارب ڈالرز کی سطح سے بھی نیچے آگئے ہیں۔زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 70 کروڑ ڈالرز سے زائد کی کمی کے بعد 17 ارب 47 کروڑ ڈالرز کی سطح پر آگئے ہیں۔ مرکزی بینک کے ذخائر 72 کروڑ ڈالرز سے زائد کی کمی سے 11 ارب 31 کروڑ ڈالرز ہوگئے ہیں۔کمرشل بینکوں کے ذخائر 6 ارب 15 کروڑ ڈالرز کی سطح پر رہے۔گزشتہ ہفتے کے دوران حکومت پاکستان کی جانب سے ریکوڈک منصوبے کے تصفیے کی مد میں بھاری ادائیگی کی کی گئی جس کے نتیجے میں مرکزی بینک کے ذخائر میں 72 کروڑ ڈالرز سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔اس سے قبل حکومت نے چین سے حاصل کردہ سافٹ لونز اور دیگر بیرونی قرضوں کی مد میں 2 ارب 90 کروڑ ڈالرز سے زائد کی ادائیگیاں کی تھیں۔
انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 3 روپے 48 پیسے کم ہو گئی



