اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ نہ تو کھلے عام روتے تھے اور نہ ہی کسی کا رونا پسند کرتے تھے لیکن 27 جنوری 1963 کو جب لتا نے نغمہ نگار پردیپ کا لکھا نغمہ ’اے میرے وطن کے لوگو‘ گایا تو نہرو اپنے آنسو نہیں روک پائے۔گانے کے بعد لتا سٹیج کے پیچھے بیٹھی کافی پی رہی تھیں تبھی ہدایتکار محبوب خان لتا کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ پنڈت جی تمھیں بُلا رہے ہیں۔محبوب نے لتا کو نہرو کے پاس لے جا کر کہا ’یہ رہیں ہماری لتا، آپ کو ان کا گانا کیسا لگا؟‘اُنھوں نے کہا ’بہت اچھا۔ اس لڑکی نے میری آنکھیں نم کر دیں‘، یہ کہہ کر اُنھوں نے لتا کو گلے لگا لیا۔اس کے بعد اس گانے کا ٹیپ ریڈیو چینل وودھ بھارتی کو پہنچایا گیا اور میوزک کمپنی ایچ ایم وی اس کا ریکارڈ بنا کر اسے بازار میں لے آئی۔سنہ 1964 میں جب نہرو ممبئی آئے تو لتا نے تقریب میں ان کے سامنے فلم ’آرزو‘ کا یہ گانا گایا ’اجی روٹھ کر اب کہاں جائیے گا‘، تب نہرو نے ان کے پاس ایک چٹ بھجوا کر ایک بار پھر ’اے میرے وطن کے لوگو‘ گانے کی فرمائش کی تھی اور لتا نے ان کی یہ فرمائش پوری کی تھی۔سنہ 1949 میں انداز ریلیز ہونے کے بعد میوزک چارٹ کے پہلے پانچ نمبر پر لتا کے ہی گانے ہوا کرتے تھے۔لتا جب 80 سال کی ہوئیں تو اُنھوں نے خود تسلیم کیا کہ راج کپور اور نرگس کی فلم ’برسات‘ کے بعد ان کا کریئر بلندیوں کو چھونے لگا تھا۔دراصل سنہ 1948 میں فلم محل ریلیز ہوئی تو گیتا رائے کو چھوڑ کر لتا منگیشکر کے مقابلے کی تمام گلوکارائیں شمشاد بیگم، زہرہ بائی، پارل گھوش اور امیر بائی ایک ایک کر کے ان کے راستے سے ہٹتی چلی گئیں۔سنہ 1950 میں جب اُنھوں نے ’آئے گا آنے والا‘ گایا تو آل انڈیا ریڈیو پر فلمی گانے بجانے کی اجازت نہیں تھی۔ انڈیا کے لوگوں نے پہلی بار ریڈیو گوا پر لتا کی آواز سنی تھی۔مشہور کلایسکی گلوکار پنڈت جسراج ایک دلچسپ قصہ سناتے ہیں۔ ’ایک بار میں بڑے غلام علی خان صاحب سے ملنے امرتسر گیا تھا۔ ہم باتیں ہی کر رہے تھے کے ٹرانسسٹر پر لتا کا گانا ’یہ زندگی اسی کی ہے جو کسی کا ہو گیا پیار ہی میں کھو گیا‘ سنائی دیا۔ خان صاحب بات کرتے کرتے ایک دم سے خاموش ہو گئے اور جب گانا ختم ہوا تو بولے کمبخت کبھی بے سُری ہی نہیں ہوتی۔ ان کے اس جملے میں ایک والد کا جیسا پیار بھی تھا اور ایک فنکار کا رشک بھی۔‘لتا کے گانے کی شروعات پانچ سال کی عمر ہی ہوئی تھی۔ نسرین منی کبیر کی کتاب ’لتا ان ہر اون وائس‘ میں خود لتا بتاتی ہیں کہ ’میں اپنے والد دینا ناتھ منگیشکر کو گاتے دیکھتی تھی لیکن خود ان کے سامنے گانے کی ہمت نہیں کر پاتی تھی۔ ایک مرتبہ میرے والد اپنے ایک شاگرد کو موسیقی سکھا رہے تھے، اُنھیں کہیں جانا پڑ گیا تو اُنھوں نے کہا کہ تم ریاض کرو میں ابھی واپس آتا ہوں۔ میں بالکنی میں بیٹھی ان کے شاگرد کو سن رہی تھی میں اس کے پاس گئی اور اس سے کہا کہ تم یہ بندش غلط لگا رہے ہو پھر میں نے اسے گا کر سنایا اتنی دیر میں میرے والد آ گئے اور میں وہاں سے بھاگ گئی۔ اس وقت میں چار سے پانچ سال کی تھی اور میرے والد کو نہیں معلوم تھا کہ میں گاتی ہوں۔‘یوں تو لتا منگیشکر نے کئی موسیقاروں کے ساتھ کام کیا لیکن غلام حیدر کے لیے ان کے دل میں خاص مقام تھا۔ اُنھوں نے سکھایا تھا کہ ’بیٹ‘ پر آنے والے بولوں پر تھوڑا زیادہ وزن دینا چاہیے اس سے گانا اٹھتا ہے جبکہ انل بسواس سے اُنھوں نے گاتے وقت سانسوں پر قابو پانا سیکھا تھا۔ہریش بھیمانی اپنی کتاب ’لتا دیدی: عجیب داستاں ہے یہ‘ میں لکھتے ہیں ’انل اس بات پر زیادہ زور دیتے تھے کہ گاتے وقت سانس ایسی جگہ پر لینا چاہیے کہ سننے والے کو کھٹکے نہیں، اُنھوں نے بتایا تھا کہ دو لفظوں کے درمیان سانس لیتے وقت آہستہ سے چہرہ مائیکروفون سے دور لے جاؤ۔لتا کی آواز کے سریلے پن کے ساتھ ساتھ اردو کے ان کے بہترین تلفظ نے بھی لوگوں کی توجہ حاصل کی اور اس کا سہرا ایک طرح سے دلیپ کمار کے سر جاتا ہے۔ہریش بھیمانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’ایک دن انل بسواس اور لتا لوکل ٹرین سے گڑگاؤں جا رہے تھے۔ اتفاق سے اسی ٹرین میں باندرہ سٹیشن سے دلیپ کمار بھی چڑھے۔ اب انل بسواس نے اس نئی گلوکارہ کا تعارف دلیپ صاحب سے کروایا تو وہ بولے کہ مراٹھی لوگوں کے منھ سے دال بھات کی مہک آتی ہے وہ اردو کا بگھار کیا جانیں۔‘ اس بات کو لتا نے ایک چیلنج کے طور پر لیا۔‘’اس کے بعد شفیع صاحب نے ان کے لیے ایک مولوی استاد کا بندوبست کیا جن کا نام محبوب تھا۔ لتا نے اُن سے اردو سیکھی۔‘
لتا منگیشکر: سروں کی ملکہ کی نور جہاں سے واہگہ پر ملاقات، جس پر دونوں طرف کے فوجی بھی روئے



