اسلام آباد/ کراچی (نیشنل ٹائمز) چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کے بجٹ کو عوامی نہیں بلکہ سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی سلیکٹڈ حکومت کے سلیکٹڈ بجٹ کو ماننے سے انکار کرتی ہے، میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان کی حکومت نے صرف شرح سود میں ردوبدل کرکے قومی خزانے کو ایک ہزار ارب روپے تک کا نقصان پہنچایا ہے، عمران خان نے مخصوص سرمایہ داروں کے دو ارب ڈالر بیرون ملک سے منگوائے اور شرح سود 13.25 فیصد مقرر کرکے اپنے دوستوں کو فائدہ پہنچا کر پیسے واپس کردئیے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ عمران خان بتائیں کہ یہ دو ارب ڈالر کن سرمایہ دار دوستوں کے تھے کہ جن کو فائدہ پہنچانے کے لئے قومی خزانے کو 300 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے شرح سود 12 فیصد تک رکھنے کا کہا تھا اور عمران خان کی حکومت نے اس کو 13.25 فیصد بڑھا کر چند سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا جبکہ پاکستان انوسٹمنٹ بونڈز کی شرح سود اچانک تبدیل کرکے عمران خان کی حکومت نے چند مخصوص سرمایہ داروں کو 700 ارب روپے تک کا فائدہ پہنچایا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطابق پاکستان انوسٹمنٹ بونڈ کے 700 ارب روپے اور دو ارب ڈالر پر 300 ارب روپے یعنی مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپے کی عمران خان کی چوری پکڑی گئی ہے، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی حکومت کی اس میگا کرپشن پر پارلیمانی انکوائری بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی خزانے پر ڈاکہ مارنے والے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو ملک سے بھاگنے نہیں دیا جائے گا اور پاکستان پیپلزپارٹی اس میگا کرپشن اسکینڈل کے ایک ایک روپے کا عمران خان سے حساب لے گی۔
بلاول زرداری نے حکومت کےبجٹ کو عوامی نہیں سیاسی بجٹ قراردیتے ہوئے مسترد کر دیا



