پاکستان میں امریکی اڈے کا قضیہ ۔۔۔۔(2) خامہ اثر: قاضی عبدالقدیر خاموش

دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں اس وقت ایک ہی سوا ل زیر گردش ہے کہ پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے دے گا یا نہیں ؟امریکی حکومت اپنی پارلیمنٹ کو یقین دلا رہی ہے کہ پاکستان ہمیں اڈے دے رہا ہے ، لیکن پاکستان نے اس امر کی دو ٹوک تردید کردی ہے ۔ اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان پر اس وقت امریکہ کی جانب سے اڈے دینے کے لئے اتنا دبائو ہے کہ جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ دوسری جانب ترغیبات کا اک جہاں آباد کردیا گیا ہے ، جس میں پاکستان کے لئے آئندہ 10برس تک کولیشن سپورٹ پروگرام ، ملٹری ٹریننگ پروگرام سمیت کئی ایک مراعات کا باقاعدہ بل کانگریس میں پیش کیا جا چکا ہے ۔دوسری جانب چین کے وزیر خارجہ روس پہنچے ہوئے ہیں جہاں جائزہ لیا جارہا ہے کہ اگر پاکستان اڈے دے دیتا ہے تو پھر خطہ کی سیاست کیا رخ اختیار کرے گی ۔
سوال یہ ہے کہ افغانستان پر نظر رکھنا اگر امریکہ کا مطمع نظر ہے تو اس کے لئے چترال میں مجوزہ اڈہ کافی ہوسکتا ہے ، لیکن وہ گوادر یا اسے قریب اڈوں پر اصرار کیوں کر رہا ہے ؟ اس کا جواب گزشتہ تحریر میں موجود ہے کہ امریکہ گوادر میں بیٹھ کر پاکستان اور چین کے منصوبے سی پیک کو بلاک کر نے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے،معاملہ صرف افغانستان کا ہوتا تو شائد کوئی راستہ نکل آتا لیکن یہاں تو معاملہ پون صدی پرانی شکست کو فتح میں بدلنے کا ہے ،یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اڈے نہ دینے کا دو ٹوک فیصلہ کرلیا ہے ۔
دوحہ معاہدے کے مطابق امریکہ نے سال کے آخر تک افغانستان سے نکلنا ہے، مگر وہ افغانستان اور اس خطے پر اپنی گرفت کو مضبوط رکھنا چاہتا ہے لہذا وہ سیاست، معیشت اور تزویراتی حوالے سے اس خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھائے گا۔ امریکہ سی پیک کو بھی ناکام بنانے کی کوششیں کررہا ہے۔ وہ اس خطے میں رہ کر چین پر بھی نظر رکھنا چاہتا ہے اور یہاں رہنے کے لیے کوئی جواز تلاش کررہا ہے۔ اس تمام صورتحال اور پس منظر میں امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان میں فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت مل جائے تاکہ وہ اس خطے میں موجود رہے۔ سن 2001 میں فضائی اڈے دینے کی وجوہات کچھ اور تھیں۔اس وقت پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی مہم کا حصہ تھا مگر اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ پاکستان سن 2001 میں نائن الیون اور سن 1980 میں روس کے خلاف امریکہ کا اتحادی رہاہے ان جنگوں کا حصہ بن کر پاکستان نے ناقابل تلافی نقصان اٹھایا ہے۔ ایک بار پھر امریکہ کو فضائی اڈے دینے سے پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کوئی بھی حکومت پارلیمان کی اجازت کے بغیر امریکہ کو ایسی اجازت نہیں دے سکتی جبکہ ایسی اجازت دینے کی صورت میں حکومت کو شدید عوامی رد عمل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
اڈے دینے کا دوسرا رد عمل پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ کی شکل میں سامنے آسکتا ہے ، امریکہ کی موجودگی کا بہانہ بنا کر ٹی ٹی پی ، لشکر جھنگوی ،القاعدہ اور داعش کے دوبارہ فعال ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ایسی صورت میں بھارت جو پہلے ہی پاکستان میں دہشت گردی کی ہر واردات کی سرپرستی کرنے کو تیار رہتا ہے ، وہ خون ریزی سے کب باز آئے گا ؟اوپر سے امریکہ کا مزاج بھی یہ ہے کہ اس کا دشمن بن کر تو رہا جا سکتا ہے ، دوست بن کر نہیں ، اپنے دوست کے دشمنوں اور دہشت گردوں کی خفیہ سرپرستی کرنا اس کی عادت ہے ، جسے ہم 9/11کے بعد بھگت چکے ہیں ۔
پاکستان نے پون صدی بعد بل آخر کسی عالمی طاقت کی پراکسی نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے ، لیکن امریکہ اڈہ دینے کی صورت ہم ایک بار پھر اسی دلدل میں جا گریں گے جہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ کو زمینی اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور یہی پاکستان کے لیے بہترین فیصلہ ہوگا۔ اگر عمران خان نے اس فیصلے پر یو ٹرن لیا تو پاکستان کے لئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ روس اور چین کے ساتھ اتحاد کی کوششوں کو دھچکا ہی نہیں لگے گا ، بلکہ ہم ا یہ مطالبہ کسی طور پر درست نہیں کیوں کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پر اپنے آئین، فلسفہ اور طاقت کی بنیاد پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مسلح جدوجہد کررہے ہیں اگر پاکستان کو افغان جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج بہت بھیانک ہوں گے اورپورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔
بعض حلقے پاکستانی قوم کو یہ نیا جھانسہ بلکہ خوف بیچا جا رہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد اگر ہم نے اس کو فوجی اڈے فراہم نہ کیے تو بھارت اپنے مقبوضہ کشمیر میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کر دے گا اور یہ کہ اس طرح امریکہ ہمارے سر پر آ کر بیٹھ جائے گا اور سی پیک کو متاثر کرے گا اور چین اور پاکستان کے رابطے کے راستوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا اور ہماری جاسوسی کرے گا۔ یہ دعویٰ کئی وجوہ کی بنا پر غلط اور جھوٹ کا پلندہ ہے ، کیونکہ امریکہ جو حاصل کرنا چاہتا ہے ، وہ اسے بھارت سے اڈے حاصل کرکے نہیں مل سکتا ، دوسرے یہ کہ کشمیر میں اڈے بھارت دے ہی نہیں سکتا ،نہ امریکہ ایسی حماقت کرے گا ۔ اگر ایسا ہوبھی جائے تو اس میں پاکستان کا نقصان نہیں فائدہ ہے ۔پاکستان نے گزشتہ 40برس سے افغانستان میں اپنی حمائتی حکومت کے ذریعہ سے وسط ایشیاء تک تجارتی رسائی کا خواب دیکھا ہے ، ان اڈوں کی صورت نہ صرف یہ خواب بکھر جائے گا بلکہ طالبان بھی ہمارے اتحادی نہیں رہیں گے ، پاکستان خطہ میں تنہائی کا شکار ہوکر رہ جائے گا ۔
ہمارے لئے سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ امریکہ کو جانے دیں اور امریکی فوج کے انخلا سے پہلے پہلے اپنے افغانستان کے ساتھ ملحق سرحد کو باڑھ لگا کر بند کر دیں اور سب سے پہلے خود کو محفوظ کریں، صرف تجارت اور آمدورفت کے قانونی راستوں اور بات چیت کے دروازوں کو کھلا رکھیں۔
اب آتے ہیں اس جانب کہ امریکہ کی نہ مان کر ہمارا نقصان کیا ہوگا ، وہ فوائد کیا ہیں جن سے ہم محروم ہو سکتے ہیں ۔ ان میں اول امریکی اسلحہ ہے ، جس سے ہم خود کو بے نیاز کرچکے ہیں ، دوسری سعودی سرمایہ کاری ہے ، جس کی دھکی دی جا رہی ہے ، سعودیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات صرف امریکی مفادات کے تحت نہیں بلکہ کچھ اور بھی اس سے زیادہ مستحکم بنیادوں پر ہمارے تعلقات قائم ہیں ، ان میں امریکہ کی وجہ سے اتار چڑھائو تو ہو سکتا ہے ۔ انقطاع ممکن نہیں اس لئے پریشان ہونے کی بھی ضرورت نہیں ۔ ایک نقصان البتہ ہے جس کا ازالہ مشکل ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضے ہمارے لئے مشکل بن سکتے ہیں ۔
جہاں تک امریکہ کو اڈوں کے بدلے فوائد کا تعلق ہے تو وہ عارضی ہیں ،جبکہ نقصانات مستقل اور دائمی ، عقل و دانش کا تقاضہ ہے کہ امریکہ سے تعلق بگاڑا بھی نہ جائے اور اڈے دینے کا مطالبہ تسلیم بھی نہ کیا جائے ۔ سرکاری حلقوں سے دستیاب اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان کے پالیسی سازوں نے امریکہ کو فوجی اڈہ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ، لیکن اس کے بجائے 2001میں کئے گئے Air Lines of Communication (ALOC) ، اور Ground Lines of Communication (GLOC) کے معاہدوں میں توسیع پر بات چیت جاری ہے اور اس حوالہ سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ زیادہ دبائو آنے کی صورت میں ان دونوں معاہدات میں توسیع کردی جائے گی ۔ جن کی مدت 2022میں ختم ہو رہی ہے ۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر