اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)صدرمملکت کا جسٹس فائزعیسی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے پھر رجوع۔صدرمملکت نے درخواستوں کی سماعت دوبارہ کرنے کیلئے نئی درخواست کردی۔صدر نے ازخود نوٹس دائرہ اختیار کے تحت آئینی درخواست دائرکی۔70 صفحات پرمشتمل درخواست میں جسٹس فائزعیسی کوفریق بنایا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل 27اپریل کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ کے 6 ججوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست نظرثانی منظور کر لی تھی۔عدالت عظمیٰ کے 6 ججوں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس امین الدین خان، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰ آفریدی اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے نظرثانی کی درخواست منظور کی تھی۔سپریم کورٹ کا 10 رکنی بینچ جون 2020 کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست پر سماعت کر رہا تھا، صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے اثاثوں کے خلاف انکوائری کی اجازت دی گئی تھی۔عدالت نے ایف بی آر اور دیگر اداروں کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کے خلاف اثاثوں کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کو ‘غیر قانونی’ قرار دیا تھا۔قانونی برادری کے اراکین، تجزیہ کاروں اور سیاست دانوں نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیلوں کی منظوری کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مثالی اور تاریخی قراردیا تھا۔
قاضی فائز عیسی کیس، حکومت نے پھرمحاذ کھول دیا



