اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ترکی میں فلسطین کی صورتحال اور سفارتی کاوشوں کے حوالے سے اہم بیان سامنے آگیا۔ پاکستان اور ترکی کی حکمت عملی واضع ہے۔ قریشی پاکستان اور ترکی دنیا کو قائل کرنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل کی جانب سے بمباری کو فوری طور پر روکا جائے۔اسرائیل بمباری کررہا ہے ، یہ انسانی حقوق اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل نہتے فلسطینوں پر ظلم ڈھا رہا ہے۔اسرائیل فلسطینوں کو زبردستی اپنے گھروں سے بے دخل کررہا ہے۔ اسرائیل مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے ، اس بربریت کو فلفور رکوانے کی ضرورت ہے۔اسرائیل کی بمباری سے لوگوں کا اسپتالوں سے رابطہ منقطع ہو رہا ہے۔ فلسطینیوں پر جاری مظالم کو رکوانے کیلئے مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انڈونیشا کی وزیر خارجہ نےبھی یقین دہانی کروائی کہ وہ بھی اجلاس میں شریک ہوں گی۔ انڈونیشا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا مسلمان ملک ہے ۔ انڈونیشیاکی وزیر خارجہ کی نمائندگی بہت بڑی کامیابی ہے۔ترک وزیرخارجہ کیساتھ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کیلئے روانہ ہونا تھالیکن آج ہم نے روانگی موخر کر دی ہے۔ وزیرخارجہ فلسطین کےوزیرخارجہ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ہم چاہتے ہیں فلسطینی وزیرخارجہ بھی جنرل اسمبلی میں ساتھ چلیں۔فلسطینی وزیرخارجہ کو جنرل اسمبلی نہ آنےدیا تو بڑی ناانصافی ہوگی۔ہم فلسطینی وزیرخارجہ کاانتظارکرینگے۔میری امید اورخواہش ہے کہ فلسطینی وزیرخارجہ پہنچ جائیں۔فلسطین کی صورتحال پر دنیا میں عوامی ردعمل بہت حوصلہ افزا ہے۔فلسطین کےعوام نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ متفق ہوکر اپنے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔یورپی ممالک میں مقیم 65ملین مسلمان، سولسوسائٹی، ممبران پارلیمنٹ سے رجوع کریں ۔یورپی ممالک میں مقیم مسلمان فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم رکوانے کیلئے دباؤ ڈالیں۔ فلسطین میں بمباری سےبجلی منقطع، جبکہ پانی اور اشیائے خورونوش کی سپلائی متاثر ہے۔عالمی برادری فلسطین کی صورتحال پر خاموش رہے تو یہ بہت افسوسناک ہوگا۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ترکی میں فلسطین کی صورتحال اور سفارتی کاوشوں کے حوالے سے اہم بیان



