گزشتہ کالم کے بعد احباب سوال کر رہے ہیں کہ پرامن چلتے ہوئے حالات میں اچانک جنگ کہاں سے در آئی فلسطین کی حالیہ جنگ اور اسرائیل کی بدمعاشی کا جواز کیا پیش کیا جارہا ہے ۔ اس سلسلہ میں تفصیلات پیش کرنے سے قارئین کو ایک اس سے بھی اہم پیش رفت میں شریک کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہے فلسطین کے محاذ جہاد پر برسر پیکار ایک مجاہد راہنما سے ہماری گزشتہ روز ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو۔ اس مجاہد راہنما کا تعارف اک مشکل سوال تھا مگر اقبال نے مسئلہ حل کردیا :۔۔
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا شباب جس کا داغ، ضرب ہے کاری
اگر ہو جنگ تو شیرانِ غاب سے بڑھ کر جو اگر ہو صلح تو رعنا غزالِ تاتاری
عجب نہیںگر اس کا سوز ہے ہمہ سوز کہ نیستاں کیلئے وہ ہے اک چنگاری
خدا نے اس کو دیا ہے شکوہِ سلطانی کہ اس کے فقر میں ہے حیدری و کراری
نگاہِ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کلاہی کو یہ بے کلاہ ہے سرمای کلہ داری
ہمارے دوست امام قبلہ اول (حرم اقصیٰ) سید اسعدبیوض تمیمی کے فرزندجناب مامون اسعد بیوض تمیمی تحریک حریت کے روح رواں ہیں ، اپنے عظیم والد کی قائم کردہ حرکة الجہاد اسلامی کے ترجمان کے عہدے پر فائز ہیں ، جبکہ حرکة الجہاد اسلامی کے سربراہ دکتور نادر تمیمی ہیں ۔ پاکستان کا اعزاز ہے کہ نادر تمیمی پاکستان میں جامشورو یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں ، یہیں سے انہوں نے سوویت یونین کے خلاف جہاد میں عسکری تربیت حاصل کی اور اس وقت اسی تربیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اسرائیل کے خلاف نبرد آزما ہیں ۔مامون اسعد تمیمی یاسر عرفات مرحوم کے قریبی ساتھیوں میں رہے ہیں اور اس وقت ایک جانب وہ حرکة الجہاد اسلامی کے ترجمان ہیں تو دوسری جانب فلسطین کی مرکزی مجلس تشریع کے رکن بھی ہیں ، اپنے والد کی طرح علم وعمل کے پہاڑ کہے جا سکتے ہیں ۔
مامون اسعد تمیمی نے میرے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں کہا کہ ”ماضی میں جب فلسطینیوں پر کوئی کڑا وقت آیا ، اسرائیل نے جارحیت کی تو پاکستان نے سب سے پہلے اور سب سے موثر کردار ادا کیا ،فلسطینی پاکستان کے اس کردار کو ہمیشہ یاد کرتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ پوری دنیا میں ان کے لئے بے لوث اگر کوئی اٹھے گا تو وہ پاکستان ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ آج بھی فلسطین کی نگاہیں پاکستان پر لگی ہیں ۔ہمیں توقع ہی پاکستان سے ہے۔ ان کے ان جذبات پر ہمیں کہنا پرا کہ یقینا ہم اگر آپ مظلوموں کی مدد کریں گے تو اللہ رب العزت ہمارے حال پر بھی رحم کرے گا ۔مامون سے جب دیگر تنظیمات کا پوچھا تو انہوں نے بہت حوصلہ افزا بات بتائی کہ اس وقت حماس ،حرکة الجہاد اسلامی اور الفتح سب مل کر لڑ رہے ہیں ،بلکہ بعض ایسے ایکشن ہیں جو مشترکہ طورپر سرانجام دئے گئے ۔اختلاف کرنے کا ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے ۔ الگ الگ رہیں گے تو بھی دشمن مارے گا بلکہ آسانی اور سہولت سے مارے گا، اکٹھے ہوںگے تو جتنا ممکن ہو سکے گا بدلہ تو لے سکیں گے ۔ہمارا مقصد صرف ایک ہے ، القدس کی آزادی یا شھادت اس کے سوا ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے ۔انہوں نے اپنے عظیم والد کا ذکر کیا اور کہا کہ جس طرح کہ میرے والد قضیہ فلسطین کو عالم اسلام کا معاملہ قرار دیتے تھے ، یہ مقامی ، عرب یا قومی معاملہ نہیں ، ہم بھی اسی سوچ پر کارفرما ہیں ۔ مامون کو یاد تھا کہ کس طرح ان کے والد گرامی نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے عہد کیا تھا ، ملاقات کا تذکرہ ہوا کہ سید اسعد بیوض تمیمی نے بے نظیر سے کہا کہ آپ کے والد کا فلسطین سے ایک خاص تعلق تھا ، انہوں نے 1967میں بطو ر وزیرخارجہ اس وقت کی حکومت کو اسرائیل کے خلاف فورسز بھیجنے پر آمادہ کیا ، اقوام متحدہ میںفلسطین کا مقدمہ لڑا، اور پھر 1973میں انہوں نے اسرائیل کے خلاف ایئرفورس بھجوائی ۔ انہوں نے یہ سب باتیں دہرا کر بے نظیر بھٹو سے کہا کہ محترمہ آپ میرے ساتھ وعدہ کریں کہ آپ بھی فلسطین سے بے وفائی نہیں کریں گی ، اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گی ، محترمہ نے کہا کہ اگر عرب تسلیم کرلیں تو ؟امام قبلہ اول نے کہا کہ عرب اگر نماز چھوڑ دیں ، تو آپ بھی چھوڑ دیں گے ، وہ روزہ چھوڑ دیں تو آپ بھی چھوڑ دیں گے ، جس طرح نمازروزہ عربوں کے چھوڑنے سے بھی نہیں چھوڑا جا سکتا اسی طرح فلسطین بھی اسلام کا مسئلہ ہے عربوں کا نہیں ، پھر محترمہ نے وعدہ کیا اور فلسطین تسلیم نہ کرنے کا وعدہ عمر بھر نبھاہ کر دکھایا ۔ مامون نے کہا کہ آپ میری طرف سے بلاول بھٹو سے کہیں کہ پیپلز پارٹی آج بھی پاکستان میں ایک قوت ہے ، وہ بطور سربراہ پیپلزپارٹی اپنے نانا اور والدہ کے کردار کو نبھائیں ، فلسطینیوں کی حمائت میں کھل کر سامنے آئیں ۔ہمیں ان سے توقع ہے ، ہمیں پاکستان سے توقع ہے ۔ ہمیں محبت ہے پاکستان سے، اہل پاکستان سے
اس کے سوا ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے ۔انہوں نے اپنے عظیم والد کا ذکر کیا اور کہا کہ جس طرح کہ میرے والد قضیہ فلسطین کو عالم اسلام کا معاملہ قرار دیتے تھے ، یہ مقامی ، عرب یا قومی معاملہ نہیں ، ہم بھی اسی سوچ پر کارفرما ہیں ۔ مامون کو یاد تھا کہ کس طرح ان کے والد گرامی نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے عہد کیا تھا ، ملاقات کا تذکرہ ہوا کہ سید اسعد بیوض تمیمی نے بے نظیر سے کہا کہ آپ کے والد کا فلسطین سے ایک خاص تعلق تھا ، انہوں نے 1967میں بطو ر وزیرخارجہ اس وقت کی حکومت کو اسرائیل کے خلاف فورسز بھیجنے پر آمادہ کیا ، اقوام متحدہ میںفلسطین کا مقدمہ لڑا، اور پھر 1973میں انہوں نے اسرائیل کے خلاف ایئرفورس بھجوائی ۔ انہوں نے یہ سب باتیں دہرا کر بے نظیر بھٹو سے کہا کہ محترمہ آپ میرے ساتھ وعدہ کریں کہ آپ بھی فلسطین سے بے وفائی نہیں کریں گی ، اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گی ، محترمہ نے کہا کہ اگر عرب تسلیم کرلیں تو ؟امام قبلہ اول نے کہا کہ عرب اگر نماز چھوڑ دیں ، تو آپ بھی چھوڑ دیں گے ، وہ روزہ چھوڑ دیں تو آپ بھی چھوڑ دیں گے ، جس طرح نمازروزہ عربوں کے چھوڑنے سے بھی نہیں چھوڑا جا سکتا اسی طرح فلسطین بھی اسلام کا مسئلہ ہے عربوں کا نہیں ، پھر محترمہ نے وعدہ کیا اور فلسطین تسلیم نہ کرنے کا وعدہ عمر بھر نبھاہ کر دکھایا ۔ مامون نے کہا کہ آپ میری طرف سے بلاول بھٹو سے کہیں کہ پیپلز پارٹی آج بھی پاکستان میں ایک قوت ہے ، وہ بطور سربراہ پیپلزپارٹی اپنے نانا اور والدہ کے کردار کو نبھائیں ، فلسطینیوں کی حمائت میں کھل کر سامنے آئیں ۔ہمیں ان سے توقع ہے ، ہمیں پاکستان سے توقع ہے ۔ ہمیں محبت ہے پاکستان سے، اہل پاکستان سے ۔”
میرے بھائی سید اسعد بیوض تمیمی کے فرزند مجھ سے بات کر رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ بھٹو نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ فیصل شہید کو مخاطب کرکے کہا تھا ”ممکن ہے ہم آپ کی کوئی مدد نہ کرسکیں ، ممکن ہے فنڈنگ میں ہم پیچھے رہ جائیں مگر ایک بات کا عہد کرتے ہیں کہ خون دینے کی باری آئی تو ہم سے آگے کوئی نہیں پائیں گے ، ہم خون کے آخری قطرے تک ساتھ کھڑے ہوں گے ۔ انشا ء اللہ ” پیپلز پارٹی کہاں ہے ؟ اپنے قائد ،بانی اور محترمہ بے نظیر کے خیالات اور نظریات کے مطابق کھل کر کیوں نہیں آتی ۔
میں عمران خان سے بھی کہوں گا کہ سیاسی اختلاف ہمیں ان سے ہے، رہے گا ۔ لیکن وہ پاکستان کے وزیر اعظم ہیں ، فلسطینی ان کی جانب دیکھ رہے ہیں ، وہ اٹھیں پلان کریں ، مردہ ہوتے ہوئے مسلم ممالک کے اتحاد میں روح پھونکیں اور فلسطین کی حمائت میں اس طرح کھل کر میدان میں آئیں جیسا کہ ماضی کے پاکستانی حکمران کھل کر آیا کرتے تھے،یہ بیانات کا نہیں عمل کا وقت ہے ۔ جہاں تک مسئلہ فلسطین کے اسلامی مسئلہ ہونے کا تعلق ہے تو اسعد بیوض تمیمی اس موقف میںتنہا نہیں ہیں ، پورا عالم اسلام یہی موقف رکھتا ہے ۔ سعودی عرب کے عظیم مجتھد اور مفتی اعظم امام ابن باز نے فرمایا تھا بلکہ فتویٰ دیا تھا کہ ”فلسطین کا مسئلہ اول سے آخر ایک اسلامی قضیہ ہے لیکن دشمنوں نے پروپیگنڈے کی تمام تر قوتیں صرف اس پر صرف کر دی ہیں کہ اسے اسلامی تناظر سے کاٹ دیں اور غیر عرب مسلمانوں کو یہ باور کرائیں کہ یہ تو محض عرب مسئلہ ہے جس سے تمھارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ میری سوچی سمجھی راے یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل اسی صورت میں ممکن ہے جب اسے ایک اسلامی قضیہ سمجھا جائے اور مسلمان کندھے سے کندھا ملا کر اس کے حل کی کوشش کریں اور یہودیوں کے خلاف اسلامی جہاد کریں تاکہ سرزمین فلسطین اس کے اصل حق داروں کو واپس مل سکے”( فلسطین میں حالیہ آگ کیوں بھڑکی ، اس کا مجرم کون ہے ، تفصیلات اگلے کالم میں ۔ انشا ء اللہ
ارض فلسطین سے ایک فون کال, قاضی عبدالقدیر خاموش



