لاہور(نیشنل ٹائمز)لاہور ہائی کورٹ میں کالعدم تحریک لیبک یا رسول اللہ کے سربراہ علامہ سعد رضوی سے ملاقات کا معاملہ۔چیف جسٹس قاسم خان تحریک لیبک لیگل ٹیم کے سربراہ افتخار احمد اعوان ایڈووکیٹ کی درخواست پر آج سماعت کریں گے ۔درخواست میں چیف سیکرٹری پنجاب،ہوم سیکرٹری پنجاب، آنسپکٹر جنرل پنجاب پولیس سی سی پی او لاہور، ڈی سی لاہور اور سنٹرل جیل کوٹ لکھپت کے سپرنٹنڈنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کا موقف ہے کہ تحریک لیبک یا رسول اللہ دینی اور سیاسی جماعت ہے۔ اس جماعت نے حالیہ عام الیکشن میں حصہ بھی لیا۔انکی جماعت نے گستاخانہ خاکوں کے خلاف دھرنا کا اعلان کیا۔درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کے ایما پر جماعت کے سربراہ مولانا سعد رضوی کو پولیس نے غیر قانونی گرفتار کر لیا۔12 اپریل کو ڈی سی لاہور نے مولانا سعد رضوی کو نقص امن عامہ کے تحت نظر بندی کے احکامات جاری کر دیے۔مولانا سعد رضوی کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوہے کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ہے۔ٹرائل کورٹ میں مولانا سعد رضوی اور دیگر کے خلاف ٹرائل چل رہا ہے۔جماعت کی لیگل ٹیم کو مشاورت اور ہدایات کے لیے مولانا سعد رضوی سے ملنا ضروری ہے۔انکو سیاسی بنیادوں پر ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ہوم سیکرٹری پنجاب بھی ملاقات کے لیے اسکی 2 مئی کو دی گئی درخواست پر فیصلہ نہیںکر رہے۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت ہوم سیکرٹری پنجاب کو اسکی درخواست پر فیصلہ کرنے کاحکم دے۔عدالت لیگل ٹیم کو مولانا سعد رضوی سے جیل میں ملاقات کی اجازت دے۔
سعد رضوی سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی



