اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پیپلزپارٹی کی خاتون رہنما شیری رحمٰن نے الزام عائد کی اہے کہ ارسا ہمیشہ دریا میں پانی کی کمی کا بہانہ بنا کر سندھ کے حصے کا پانی کم کر دیتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں دریائوں میں پانی کی کمی نہیں ہوتی۔معاملہ پانی کی کمی کا نہیں تقسیم کا ہے۔ ارسا سے نہ صرف سندھ بلکہ بلوچستان کو بھی شکایت ہے۔وفاقی حکومت پانی کا نیا تنازعہ پیدا نہ کرے۔ ارسا نے سندھ کے پانی کے حصے میں 15-20٪ کی کمی کردی ہے،۔ یہ 1991 کے پانی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے۔سندھ کا زراعت کا شعبہ مجموعی قومی زرعی پیداوار میں 23 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ فصل کے موسم میں سندھ کو پانی کے حصے سے محروم کرنے سے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہونگے۔1991 کے پانی معاہدے کی کئی بار خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ ہم اس اہم معاملہ پر سینیٹ میں تحریک التواء جمع کر رہے ہیں۔وفاقی حکومت ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ وفاقی حکومت پانی کے منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔
ارسا ہمیشہ دریا میں پانی کی کمی کا بہانہ بنا کر سندھ کے حصے کا پانی کم کر دیتا ہے



