اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکریٹری جنرل دردانہ صدیقی ڈپٹی سیکرٹریز جنرل ثمینہ سعید ڈاکٹر حمیراطارق ،ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ،صدر وسطی پنجاب ربعیہ طارق ،صدر لاہور زبیدہ جبیں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انبیا کی سرزمین فلسطین ایک ،بار پھر خون مسلم سے رنگین ہوئے جارہی ہے، مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کی بے حرمتی اور غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، بہتے فلسطینی شہدا کا خون مسلم دنیا کے حکمرانوں اور جرنیلوں پر قرض ہے ۔ اہلِ فلسطین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس وقت ہم اور ہمارے حکمران اپنے سحر و افطار میں لذیذ پکوان اور مشروبات سے لطف اندوز ہونے میں مگن ہیں، انہی لمحات میں ہمارا قبلہ اول اور اس کے مکین صہیونی افواج کی جارحانہ بمباری کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں اور شہادت کا جام نوش فرما رہے ہیں۔ فلسطین کے نہتے مسلمانوں کی جانب سے جمعۃ الوداع کی نماز مسجد اقصیٰ میں ادا کرنے کی پاداش میں اسرائیلی فورسز نے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، وہ تاحال جاری ہے۔ صرف گزشتہ شب کی بمباری میں 24 سے زائد شہادتوں کی اطلاعات ہیں جن میں تین معصوم بچے بھی ہماری مسجدِ اقصیٰ پر قربان ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک عام شہری کی حیثیت سے یقیناً ہم آپ عملی طور پر کچھ زیادہ نہیں کرسکتے، لیکن ہمارا مقتدر طبقہ جو بہت کچھ کرنے کی صلاحیت اور استعداد رکھتا ہے، اس کی خاموشی کا بھلا کیا جواز ہوسکتا ہے؟ ہماری مسلم ممالک کی افواج اقوام متحدہ کے امن مشن پہ یہاں وہاں جاسکتی ہیں، نیٹو کی ماتحتی میں غیروں کی جنگ میں اپنے سپاہی جھونک سکتی ہیں، تو مسلمانوں کے قبلہ اوّل کی پکار پر لبیک کیوں نہیں کہہ سکتیں؟ کیا روزِ محشر ان سے مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی اور اقصیٰ کے بچوں، جوانوں، بزرگوں اور خواتین کی مظلومانہ شہادت پر خاموش تماشائی بنے رہنے پر سوال نہیں ہوگا؟ دردانہ صدیقی نے اپیل کی کہ رمضان کی بابرکت ساعتوں کی خصوصی دعاؤں میں فلسطینی بھائی بہنوں بچوں بزرگوں کو ضرور شامل رکھیے۔ انہوں نے حکمرانوں سے بھی مطالبہ کیا کہ فلسطین کو اسرائیل کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر ٹھوس عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کی بے حرمتی اور غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، دردانہ صدیقی



