روم(شِنہوا)تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دہائیوں میں چین کی جانب سے اپنی سرحدوں کے اندر غربت کم کرنے میں کامیابی غربت کے خاتمہ کیلئے کوشاں دیگر ممالک کیلئے ایک مثال ہو سکتی ہے۔شِنہوا خبر رساں ادارے کے تھنک ٹینک نیو چائنہ ریسرچ کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ کے مطابق چین کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت نے گزشتہ 8سالوں کے دوران تقریباً 10کروڑ دیہی رہائشیوں کو خط غربت سے اوپر اٹھایا ہے اوراقوام متحدہ(یواین)کا 2030کیلئے غربت ختم کرنے کا ہدف مقررہ وقت سے تقریباً 10سال قبل حاصل کرلیاہے۔اس کارنامے نے دنیا بھر سے ستائش حاصل کی، روم میں قائم اقوام متحدہ کی خوراک وزراعت بارے تنظیم(ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل چھو ڈونگ یو نے یو این انسداد غربت کا ہدف حاصل کرنے پر چین کی حکومت اور عوام کو پرجوش انداز میں مبارکباد دی ہے۔
چھو سابق چینی نائب وزیر بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں افلاس سے پاک دنیا کا خواب پورا کرنے کیلئے چین اور خوراک وزراعت بارے تنظیم کو ایک ساتھ کام کرتا دیکھنا چاہتا ہوں۔1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام سے اب تک 80کروڑسے زائد لوگوں کو غربت سے نکالا گیا ہے، اس کامیابی نے چین میں ملکی ڈائریکٹر اور روم میں بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی( آئی ایف اے ڈی) کے نمائندہ ماٹیو مارچیسیو کو بہت زیادہ متاثر کیاہے۔انہوں نے کہا کہ یہ یورپ کی آبادی سے دوگنی ہے،گزشتہ 40 سالوں کے دوران غربت کم کرنے میں دنیا کی مجموعی کامیابی میں سے زیادہ تر چین میں ہوئی ہے۔وینس میں کا فوسکاری یونیورسٹی میں مشرقی ایشیائی قانون کے پروفیسر رینزو کاوالیری کے مطابق غربت سے نمٹنے میں چین کی کامیابی غربت کو شکست دینے کا مقصد رکھنے والے ممالک کیلئے امید ہے۔
چین کی غربت کیخلاف کامیابی مشترکہ چیلنجز کا سامنا کرنے والے ممالک کیلئے امید قرار



