اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان پیپلزپارٹی نے فاطمہ جناح ہاسٹل اسلام آباد میں رہائش پذیر خواتین جو مختلف اداروں میں کام کر رہی ہیں کو بیدخلی کا نوٹس جاری کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ نوٹس فوری طور پر واپس لئے جائیں۔ یہ نوٹسز وزارت ہاؤسنگ اور ورکس نے جاری کئے ہیں جن کے مطابق ان تمام خواتین کی اس ہاسٹل میں الاٹمنٹ منسوخ کر دی گئی ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ 30اپریل بروز جمع تک وہ ہاسٹل خالی کردیں۔ ایک بیان میں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکرٹری جنرل سینٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں بیدخلی کے آرڈر نکالنا انتہائی ظالمانہ اور بے حسی پر مبنی عمل ہے اور خواتین کو اس طرح سے بیدخل کرنے کی کوئی بھی مثال نہیں ملتی۔ یہ غیرمعمولی آرڈر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ حکومت خواتین کے بارے میں کس قدر بے حسی کا رویہ رکھتی ہے۔ بجائے اس کے کہ خواتین کے لئے بہتر اور محفوظ رہائش کے مزید انتظامات کئے جائیں، ان خواتین کو ان کی رہائش سے بیدخل کیا جا رہا ہے۔ فرحت اللہ بابر نے وزارت ہاؤسنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیدخلی کے یہ نوٹس فوری طور پر واپس لیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس مسئلے کو پارلیمان اور دیگر تمام فورمز پر اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہاسٹل قائداعظم کی ہمشیرہ کے نام پر رکھا گیا ہے اور یہ محترمہ فاطمہ جناح کے نام کے ساتھ سخت ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاقی دارالحکومت میں بیگم نصرت بھٹو کے نام سے خواتین کے لئے ایک ہاسٹل قائم کیا تھا لیکن بھٹو نام سے دشمنی کی بناءپر وہ ہاسٹل بھی آہستہ آہستہ ختم کر دیا گیا جس طرح بھٹو دشمنی کی وجہ سے بی آئی ایس پی کا نام تبدیل کرکے احساس پروگرام رکھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو عوام کے دلوں اور ذہنوں میں رہتے ہیں اور کسی قسم کی دشمنی بھی بھٹوز کے نام کو ختم نہیں کر سکتی۔ اگر حکومت اپنی کارکردگی بہتر نہیں کر سکتی تو کم از کم خواتین سے وہ تھوڑی بہت سہولتیں جو انہیں ملی ہوئی ہیں وہ نہ چھینے۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے فاطمہ جناح ہاسٹل اسلام آباد میں رہائش پذیر خواتین کو بیدخلی کا نوٹس جاری کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کر دیا



