اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری کا پی ڈی ایم اجلاس پر ردعمل آگیا۔آج کا پی ڈی ایم کا اجلاس پی پی پی اور اے این پی کے بغیر ایک افطار پارٹی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔آج پی ڈی ایم توڑنے پر ایک دوسرے کو واہ واہ کہنے کیلئے ن لیگ اور جے یو آئی نے “انجمن ستائش باہمی” کا اجلاس بلایا۔پی ڈی ایم اجلاس کے بعد نہ کوئی اعلان ہوا نہ لائحہ عمل بتایا گیا، کیا مولانا فضل الرحمان بھی ن لیگ کی طرح عمران خان کو بچانا چاہتے ہیں؟مولانا فضل الرحمان بتائیں کہ کیا پی ڈی ایم اجلاس میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے خلاف ن لیگ کے مؤقف پر اتفاق ہوگیا؟حیرت ہوئی کہ پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے استعفوں کا اعلان نہیں کیا۔لگتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نہ گرانے کا اعلان کرنے والی ن لیگ پی پی پی سے استعفے لیکر صرف سندھ حکومت گرانا چاہتی تھی۔سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا باپ کے باپ کے کہنے پر ن لیگ نے پی ڈی ایم کو پی ٹی آئی بچاؤ اتحاد بنادیا۔صاف نظر آرہا ہے کہ جب عمران خان کی حکومت ڈولتی دیکھی تو سازش کے تحت پی ڈی ایم کو توڑ دیا گیا۔ایک ایسے وقت میں پی ڈی ایم کو توڑا گیا جب بلاول بھٹو کے تحریک عدم اعتماد کے فارمولے کے تحت حکومت کبھی بھی گرسکتی تھی۔
ایک ایسے وقت میں پی ڈی ایم کو توڑا گیا جب بلاول بھٹو کے تحریک عدم اعتماد کے فارمولے کے تحت حکومت کبھی بھی گرسکتی تھی



