اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان پیپلزپارٹی نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے متعلق آرڈیننس کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پیش کرنے میں غیرضروری تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس آرڈیننس کو فوری طور پر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی آرڈیننس کو ایوان کے سامنے جبکہ ایوان کا سیشن ہو رہا ہو نہ پیش کرنا غیرآئینی ہے۔ اب حکومت نے ایک جانب تو اس آرڈیننس کو نافذ کرنے سے پہلے پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا حالانکہ پارلیمنٹ کا سیشن بھی جاری ہے اور دوسری جانب یہ آرڈیننس ہائیرایجوکیشن کمیشن کی آزادی پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بدنیتی پر مبنی ہے۔ ایک جانب تو ایچ ای سی کے چیئرمین کی مدت ملازمت جو کہ چار سال کی تھی میں کمی کر دی گئی ہے اور دوسری جانب بغیر کسی وجہ بجائے کمیشن کی خودمختاری ختم کر دی گئی ہے اور اس کے لئے دوسرے اسٹیک ہولڈروں سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھی ایچ ای سی کے اسٹیک ہولڈروں میں شامل ہیں۔ صوبوں سے مشاور ت نہ کرکے وفاق نے آئین میں ضمانت شدہ آئینی خودمختاری پر بھی حملہ کیا ہے۔ کسی بھی ریگولیٹری ادارے جیسا کہ ایچ ای سی ہے کے لئے قانون سازی کونسل آف کامن انٹریسٹ (سی سی آئی) کے دائرے میں آتی ہے لیکن اس معاملے کو سی سی آئی میں بھی زیر بحث نہیں لایا گیا۔ اس آرڈیننس کو جاری کرنے کا وقت بھی اس کی شفافیت، احتساب اور مفادات کے ٹکراؤ کے بارے سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ جب ایچ ای سی نے باوثوق افراد سے منسلک اداروں کو اربوں روپے کی فنڈنگ پر اعتراضات اٹھائے اور اس فنڈ کو ان اداروں کی کارکردگی اور آڈٹ سے منسلک کیا تو یہ آرڈیننس لایا گیا اور اب یہ معاملہ آسانی سے دبنے والا نہیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پوچھا کہ وہ کونسے حالات تھے جن کی وجہ سے یہ آرڈیننس جاری کیا اور جس کی مدد سے چیئرمین ایچ ای سی کی مدت ملازمت میں کمی کر دی گئی اور بغیر کسی بحث و مباحثے کے ایچ ای سی کی خودمختاری ختم کر دی گئی۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ایچ ای سی کو وزارت تعلیم کے ماتحت کردینا غیرآئینی عمل ہے۔ یہ صدر کے آرڈیننس کے جاری کرنے کے اختیار کا غلط استعمال ہے اور یہ سی سی آئی کے دائرہ اختیار میں ناقابل قبول دخل اندازی ہے کیونکہ سی سی آئی میں صوبے بھی برابر کے شراکت دار ہیں اور یہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں ریگولیٹری اداروں کو آزاد حیثیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس آرڈیننس کو مسترد کرتی ہے اور اس کے خلاف تمام پارلیمانی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے متعلق آرڈیننس کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میںفوری طور پر پیش کرنےمطالبہ کر دیا



