اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستان ہاؤس آمد۔ ایران میں تعینات پاکستانی سفیر رحیم حیات قریشی اور سفارتخانے کے افسران نے وزیر خارجہ کا خیر مقدم کیا۔وزیر خارجہ نے “پاکستان ہاؤس” میں ایران میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں سے ملاقات کی۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے مابین یکساں مذہبی، تہذیبی اقدار پر استوار، دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں ۔میرے دورہ ء ایران کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مستحکم بنانا ہے ۔ پاکستان اور ایران کے مابین دو طرفہ تجارت کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ ہمارے سفارت کاروں کو معاشی سفارت کاری پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، پاکستان کی اقتصادی ترقی کیلئے کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ مجھے خوشی ہے کہ ایران نے، پاک ایران مشرکہ بارڈر پر “تجارتی مراکز کھولنے کی تجویز کو نہ صرف سراہا بلکہ اسے عملی پہنانے کیلئے بھرپور آمادگی کا اظہار کیا۔مجھے یہ بناتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ کل” پاک ایران مشترکہ سرحد پر “بارڈر مارکیٹ” کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔مشترکہ سرحد پر باڈر مارکیٹس کے قیام سے جہاں ایک طرف قانونی تجارت کو فردغ ملے گا وہاں دونوں جانب سرحدی علاقے کے مکینوں کی معاشی حالت بدل جائے گی ۔مجھے خوشی ہے کہ ایران حکومت نے ، 2012 سے پاکستان سے کنو(Citrus ) کی امپورٹ پر عائد پابندی کو ختم کر دیا ہے۔یہ اقدام پاکستان اور ایران کے مابین دو طرفہ تعلقات کے استحکام کا مظہر ہے اور کنو کی کاشت اور کاروبار سے وابستہ پاکستانی تاجروں کیلئے ایک انتہائی خوش آئند بات ہے ۔ ایران میں، پاکستانی سفیر “رحیم حیات قریشی” نے وزیر خارجہ اور ان کے وفد کے اعزاز میں “افطار ڈنر” کا اہتمام کیا۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستان ہاؤس آمد



