کراچی(نیشنل ٹائمز)آج جامعہ دار العلوم کراچی میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی دعوت پر کراچی کے ممتاز علماء کا ایک اجلاس ہوا ۔جس میں مولانا عبید اللہ خالد (جامعہ فاروقیہ، کراچی)، مولانا امداد اللہ (جامعۃ العلوم الإسلامیۃ، بنوری ٹاؤن کراچی)، مولانا انس(صاحبزادہ مولانا ڈاکٹر عادل خان صاحب شہید ؒ) مولانا اعجاز مصطفی (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی)، مولانا سیف اللہ ربانی (جامعہ بنوریہ کراچی)، قاری محمد عثمان اور دار العلوم کراچی کے اکابر اساتذہ نے شرکت کی، اس مجلس میں مولانا محمد حنیف جالندھری، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے بھی ٹیلیفون پر یہ تجویز پیش کی گئی کہ اس موقع پر اتحادِ تنظیمات مدارس پاکستان کی طرف سے مشترک موقف قوم کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔چنانچہ مولانا محمد حنیف جالندھری نے اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے ارکان سے رابطہ کر کے مجلس کے مندرجہ ذیل بیان پر اتفاق حاصل کیا۔ اب یہ بیان اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے مرکزی قائدین حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر ، مفتی منیب الرحمن، پروفیسر ساجد میر،مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا عبد المالک، علامہ سید ریاض حسین نجفی، صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی، مولانا محمد یٰسین ظفر، ڈاکٹر مولانا عطاء الرحمن، مولانا محمد افضل حیدری اور دار العلوم کراچی کے اجلاس میں شرکاء مجلس کے اشتراک سے جاری کیا جارہا ہے۔باسمہ سبحانہٗآج جامعہ دارالعلوم کراچی میں کراچی کے دینی مدارس کی مجلس منعقد ہوئی، جس میں تحفظِ ناموسِ رسالت اور تحفظ ختمِ نبوت کے کارکنوں پر لاہور میں سفاکانہ فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ احمقانہ اقدام ملک کو بدامنی کی آگ میں دھکیلنے کے مترادف ہے، اول تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کو بذاتِ خود گستاخانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عملی اقدام کرنا چاہیے تھا لیکن اگر “تحریک ِلبیک “کے متوجہ کرنے پر ایک معاہدے پر خود وزراء نے دستخط کیے تو اس معاہدے کی پاسداری ہی میں ایسے اقدامات ضروری تھے جو مسلمان کی غیرتِ اسلامی کا کم از کم تقاضا ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ اس معاہدے کی پاسداری کرنے کی بجائے اس کی مدت بڑھائی گئی اور دوسری مدت ختم ہونے سے پہلے ہی تحریک کے سربراہ کو گرفتار کر کے تناؤ کا ماحول پیدا کر دیا گیا۔اس موقع پر جن لوگوں نے پولیس کے ساتھ تشدد کیا، یقینا وہ بھی قابلِ مذمت تھا، لیکن اس کے جواب میں براہِ راست فائرنگ کے اقدام کو اپنے ہی عوام سے دشمنی کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس واقعے پر ملک بھر میں رد عمل کی جو لہر اٹھی ہے، اور اس کے نتیجے میں ملک جس طرح بدامنی کی فضا کی طرف جا رہا ہے، اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اب بھی اگر حکومت معقولیت اپناتے ہوئے ملک کو اس بدامنی، بے چینی اور اضطراب سے بچانا چاہتی ہے تو وہ اپنے شہریوں پر گولیاں چلانے کے بجائے ان کے ساتھ فوراً مذاکرات شروع کرے اور ان کے جائز مطالبات کو پورا کر کے پوری قوم کا دل ٹھنڈا کرے۔
جس طرح بدامنی کی فضا کی طرف جا رہا ہے، اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے،ملک کے ممتاز علماء کرام اور اتحاد تنظیمات ِ مدارس پاکستان کے مرکزی قائدین کا مشترکہ بیان



