اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے جب کسی نظام میں برائیاں، بدعنوانی اور رکاوٹ آجائیں کہ جب تک پیسے نہیں دیں گے کام نہیں ہوگا تو تبدیلی لانے میں وقت لگتا ہے اور یہ مشکل بھی ہے کیوں کہ پرانا اسٹیس کو تبدیلی نہیں آنے دیتا، اگر وہ رکاوٹیں نہیں ڈالے گا تو پیسہ کیسے بنائے گا۔لاہور میں ایل ڈی اے سٹی کے منصوبے نیا پاکستان اپارٹمنٹس کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے آنکھوں کے سامنے نظام خراب ہوتے ہوئے دیکھا اور یہ نظام بن گیا کہ رشوت دو تو کام ہوگا اور جب اسے تبدیل کرتے ہیں تو اس کے لیے بڑا وژن، عزم و ہمت اور ارادہ چاہیے ہوتا ہے لیکن ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو 21 صدی کی مشکلات پر قابو پانا ہے تو ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہم نے کاروبار میں آسانی اور کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کرنا ہے تو آٹو میشن لانی پڑے گی جس کے خلاف نظام میں بہت مزاحمت ہے، ہر ادارے میں کوشش کی جاتی ہے کہ آٹو میشن نہ آئے کیوں اس سے رشوت خودبخود ختم ہوجاتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ساری دنیا میں لوگوں کے پاس نقد رقم نہیں ہوتی اس کے لیے بینک فنانس فراہم کرتے ہیں اور لوگ کرایہ دینے کے بجائے بینکوں کو قسطیں فراہم کرکے اپنا گھر خرید سکتے ہیں۔خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں وزیراعلیٰ، گورنر پنجاب، صوبائی و وفاقی وزرا کو اس منصوبے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، کیوں کہ آج جہاں ہم پہنچے ہیں اس کے پیچھے کافی کام ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بینک اس بات کے عادی نہیں کہ چھوٹے لوگوں کو گھر بنانے کے لیے قرضہ دیں کیوں کہ یہاں اس کا تصور ہی نہیں تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ سیمنٹ فروخت ہوئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے تعمیراتی صنعت آگے بڑھنا شروع ہوگئی ہے جس کے ساتھ 30 مزید صنعتیں منسلک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بینکنگ کے شعبے میں بھی قیادت چاہیے، بینک کے ہر سربراہ کے پاس وژن نہیں ہوتا وہ یہ دیکھتا ہے کہ مجھے کس طرح منافع کمانا ہے لیکن غیر معمولی بینکرز سمجھتے ہیں کہ معیشت کو جتنا فروغ ملے گا اس سے بینکنگ سمیت سب کا فائدہ ہوگا۔
اگر پاکستان کو 21 صدی کی مشکلات پر قابو پانا ہے تو ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہے



