اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) سندھ حکومت کے ترجمان مرتضٰی وہاب نے کہا ہے کہ عوام نے 2017 میں ہونے والی مردم شُماری کو تسلیم نہیں کیا،وفاق نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 75 ارب روپے سندھ حکومت کو ادا نہیں کیے ،سندھ کے تین بڑے ہسپتال جن میں لاکھوں لوگوں کا مفت علاج ہو رہا ہے وفاق ان کو صوبے کے پاس ہی رہنے دے تاکہ پورے پاکستان کے لوگوں کو اعلاج کی فری سہولت ملتی رہے ،سندھ حکومت نے ایک کروڑ ویکسین کا آرڈر دے دیا ہے جو عوام کو مفت لگائی جائے گی اور جیل میں قیدیوں کو بھی ویکسین لگانے کا آغاز کردیا گیا،کتےکے کاٹنے کی ویکسین سندھ میں موجود ہے جبکہ سندھ حکومت نے وفاق کو کتے کے کاٹنے کی ویکسین کے لیےادائیگی بھی کی لیکن ویکسین فراہم نہیں کی گئی ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا پیپلز پارٹی کے چیف میڈیا کوآرڈینیٹر نذیر ڈھوکی بھی ان کے ہمراہ تھے سندھ حکومت کے ترجمان مرتضٰی وہاب نے کہا کہ سندھ کے مختلف شہریوں سے پریس کانفرنس کرتا ہوں آج اسلام آباد سے کر رہا ہوں آج مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہو رہا ہے ہر 90 روز بعد اس کا اجلاس ہونا ہوتا ہے آج وزیر اعلیٰ سندھ بھی آئے ہیں عوام نے 2017 کی مردم شُماری کو تسلیم نہیں کیا مردم شمار ہی کو تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کروایا جائے یہ فیصلہ ہوا تھا کونسل آف کامن انٹرسٹ میں پہلے ایک فیصد نمبر کا آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم ایک ماہ بعد فیصلہ کیا گیا ایک فیصد کی بجائےپانچ فیصد کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کیا جائے مردم شُماری کے ایشو کو وزیراعظم نے حل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اسد عمر نے کہا کہ اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس معاملے کو دیکھے گی پیپلز پارٹی نے پورے ملک کا مقدمہ لڑا کونسل آف کامن انٹرسٹ نے فیصلہ کیا گیا کہ تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا پھر پتہ چلا کہ وفاقی کابینہ اس حوالے سے رپورٹ کو منظور کر لیا ہے اب سی سی آئی میں کچھ اور فیصلہ ہے کابینہ میں کچھ اور فیصلہ کیا گیا سندھ کی آبادی کی آبادی اور بلوچستان کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا ہے پی ٹی آئی کی حکومت انصاف پر یقین نہیں رکھتی جب تک پتہ نہ چلے کہ صوبے میں کتنی ابادی ہے تو اس حوالے سے اقدامات کرنا مشکل ہے انہوں نے کہا کہ آج وزیر اعلیٰ سندھ۔ وزیراعظم کے سامنے سندھ کے تین ہسپتالوں کے حوالے سے گفتگو کریں گے این آئی سی وی ڈی 2011 کو سندھ حکومت کو ملا تب ایک کراچی میں تھا اس کے بعد سندھ کے دیگر شہروں میں گیا مختلف اضلاع میں بنایا گیا اب دیگر اضلاع سے لوگوں کو کراچی نہیں آنا پڑتا تمام اخراجات سندھ حکومت برداشت کرتی ہے 83لاکھ 28 ہزار سے زائد مریضوں کا مفت اعلاج سندھ حکومت نے کیا ہے پیپلز پارٹی فیڈریشن کی جماعت ہے 3 لاکھ 34 ہزار سے زائد مریضوں کا تعلق دیگر صوبوں سے ہے 9133 آزاد کشمیر سے پنجاب سے 70185 مریض آئے جن کا مفت اعلاج کیا گیا کینسر کے مریضوں کے لیے جناح ہسپتال ہے جو پورے پاکستان کو اعلاج کی سہولت فراہم کر رہا ہے جہاں پر مفت اعلاج کیا جاتا ہے 13ہزار 75 مریضوں کا گزشتہ پانچ سال میں مفت اعلاج ہوا ہے 48 فی صد سندھ سے ہیں باقی دیگر صوبوں سے آئے ہیں سائبر نائف سہولت کے تحت اعلاج ہوا ہے ایک اور سٹیسکین سہولت 2016 سے لیکراب تک 8500 لوگ مستفید ہوئے ہیں کے پی کے سے بھی مریض اعلاج کے لیے صوبہ سندھ میں آئے ہیں سندھ حکومت کے انسانی خدمت کو روکنے کے لیے ایک نوٹیفیکیشن کے تحت ہسپتالوں کو وفاق کے ماتحت کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ کابینہ پہلے فیصلہ کر چکی ہے کہ ہمارے پیسے نہیں ہیں اور یہ صوبے کے پاس رہنے دیا جائے سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ وفاق پیسے صوبے کو دے گا ان تینوں ہسپتالوں کو چلانے کے لیے وفاقی حکومت نے بورڈ آف گورنرز کی تشکیل کر دی ہے آرڈیننس میں سندھ کے کسی ہسپتال کا نام نہیں ہے آرڈیننس تین ماہ کے بعد ختم ہو جاتا ہے لیکن موجود حکومت آئین اور قانون سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے ہیں سندھ کے تین ہسپتال انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں میرا وزیر اعظم کہتا ہے کہ میں نے پاکستان کی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کر دیا ہے لیکن مہنگائی غربت بےروزگاری مزدور مرد بچے کو مہنگائی نے ان سب کو کس طرح سے پریشان کیا ہے گزشتہ نو ماہ میں سندھ کو این۔ایف سی ایوارڈ کیمد می ملنے والے 75 ارب روپے ادا نہیں کیے گئے اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو غربت بے روزگاری کیوں ہے انہوں نے کہا کہ بغض پیپلز پارٹی میں سندھ ہسپتال کو اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے تین ادارے اچھے طریقے سے چل رہے ہیں بین الاقوامی طرف سے پزیرائی ملی رہی تو اب وفاقی حکومت ان کو اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش کیر رہی ہے چندے پر کام کرنے والے کب تک ہمیں اس پر چلائیں گے وفاقی حکومت نے ایک ویکیسن امپورٹ نہیں کی چین پاکستان سے دوستی کی وجہ سے ویکسین مل رہی ہے مدینے کی ریاست خود امپورٹ کرتی ہے تو سندھ کو کیا ضرورت ہے ویکسین امپورٹ کرنے کی ،پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی نہیں جانا لیکن اعلاج بھی ایدھر سے کرواتے ہیں کتے کے کاٹنے کی ویکسین بھارت سے منگوائی جاتی تھی لیکن حالات کی خرابی کی وجہ سے اب نہیں منگوا سکے ہم نے پیمز سے مانگی تھی اور پیمنٹ بھی کی تھی لیکن انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس نہیں ہے حالانکہ یہ وفاق کا ہسپتال ہے سندھ حکومت نے بہت اچھے کام کیا ہے مسائل بھی ہیں لیکن اچھے کاموں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اس وقت کتے کے کاٹنے کی ویکسین سندھ میں موجود ہے بلاول بھٹو زرداری نے 2018 میں کہا تھا کہ آئیں ملکر کام کرتے ہیں لیکن اس مطلب یہ نہیں کہ ہم نے اتحاد کر لیا ہم ہمیشہ پارلیمان کا ساتھ دیتے ہیں ضمنی انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں نے جیتے ہیں پیپلز پارٹی مسائل حل کرنا چاہتی ہے اور ملکر چلنا چاہتی ہے سندھ حکومت نے 10 ملین ویکسین کا آرڈر دیا ہے صرف سندھ حکومت نے جیلوں میں بھی قیدیوں کو بھی ویکسین لگانا شروع کر دی ہے سندھ میں صحت کارڈ کی ضرورت نہیں وہاں ویسے ہی اعلاج کی فری سہولت موجود ہے۔
عوام نے 2017 میں ہونے والی مردم شُماری کو تسلیم نہیں کیا، مرتضٰی وہاب نے وفاق سے بڑے مطالبات کر دیئے



