ایتھنز (شِنہوا) انتہائی غربت مکمل طور پر ختم کرنے میں چینی کامیابی کی یونانی میڈیا پر مقامی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے تعریف کی ہے۔
چین نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ انتہائی غربت مکمل طور پر ختم کردی گئی ہے، 2020 میں موجودہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے چین کے تقریباً 10کروڑ دیہی رہائشیوں کو 8سال کی مشکل کوششوں کے بعد غربت سے نکال لیا گیا ہے۔نیوز ویب سائٹ slpress.gr پر “چین نے یہ کیسے کیا” کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں یونان کی اسکالر،جو کہ اکیڈمی آف چائنہ اوپن معاشی مطالعہ (یو آئی بی ای) میں محقق بھی ہیں، غیر ملکی ماہر یو آئی بی ای، پیلاگیا کارپاتھیوٹاکی نے کامیابی کی کہانی کے پیچھے وجوہات بیان کیں۔کارپاتھیوٹاکی نے زور دیا کہ چین نے اقوام متحدہ کی جانب سے پائیدار ترقی کیلئے مقرر کئے گئے 17میں سے پہلا ہدف مقررہ وقت سے 10سال قبل حاصل کرلیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 1970کے آخر سے اب تک چینی معاشی نمو نے عالمی غربت کو 70فیصد تک کم کرنے میں مدد کی ہے۔یونانی ماہرنے وضاحت کی کہ یہ حاصل کرنے کیلئے افقی اورعمودی پالیسی مداخلت کے ساتھ ایک عملی منصوبہ نافذ کیا گیا جس کا بنیادی مقصد انتہائی غربت ختم کرنا مقرر کیا گیا اور اسی طرح دیہات میں حیات نو کیلئے حکمت عملی اپنائی گئی کیونکہ یہ صدی کا دوسرا مقصد حاصل کرنے کیلئے ایک اہم شرط ہے۔گز شتہ 8 برسوں کے دوران 30 لاکھ سے زائد عوامی شعبہ سے عہد یداروں کو اگلے محاذوں پر غربت سے لڑنے کے لیے شہروں اور ٹاؤنز سے دیہاتوں میں بھیجا گیا جس کا مقصد گھر گھر پہنچنے کے ایکشن پلان پر عملدر آمد تھا جبکہ چینی حکومت نے تقر یباً 16 کھرب یوآن (246 ارب امر یکی ڈالرز) کے مالیاتی فنڈز مسئلہ سے نمٹنے کے لیے خرچ کیے۔
انتہائی غربت کے مکمل خاتمے میں چینی کامیابی کی یونانی میڈیا پر تعریف



