واشنگٹن(نیشنل ٹائمز) امریکی صدر جوبائیڈن نے آئندہ ماہ جمہوریت پر ہونے والی ورچوئل کانفرنس میں چین کو نظرانداز کرتے ہوئے دنیا کے 110ممالک کو مدعو کر لیا۔ صدر جوبائیڈن کی طرف سے مدعو کیے گئے ممالک میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ تمام بڑے اتحادی ممالک اور عراق کو بھی اس کانفرنس میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔ایک طرف چین کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی اور دوسری طرف تائیوان کو مدعو کر لیا گیا ہے جس کے تنازعے پر امریکہ اور چین کے تعلقات میں پہلے ہی بہت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اب صدر جوبائیڈن کی طرف سے چین کو نظر انداز کرنے اورتائیوان کو کانفرنس میں شریک کرنے پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اور امریکہ کے تعلقات مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ چین کی طرح ترکی کو بھی اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا حالانکہ وہ نیٹو کا ایک سرکردہ رکن ملک ہے۔ مشرق وسطیٰ میں سے بھی صرف عراق اور اسرائیل کو دعوت دی گئی ہے۔ امریکہ کے روایتی عرب اتحادیوں مصر، سعودی عرب، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کو دعوت نہیں دی گئی۔ یہ کانفرنس 9 اور 10دسمبر کو ہو گی۔
جوبائیڈن نے ایسا کام کردیا کہ چین اور سعودی عرب کے غصے کی انتہا نہ رہے



