اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)مسلم لیگ (ن) نے ڈسکہ انکوئری رپورٹ پر عدلیہ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا، شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ڈسکہ الیکشن میں چوری پر ملوث کرداروں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔اسلا م آباد میں ترجمان مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ڈسکہ ضمنی انتخاب انکوائری رپورٹ پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آج سب سے بڑا امتحان ملک کی عدلیہ کا ہے، عدلیہ نے ماضی میں ایکشن لیے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر انکوائری رپورٹ کو غیر سنجیدگی سے لیا گیا تو مجھے امید نہیں ہے کہ ملک کے حالات کبھی ٹھیک ہوسکیں گے، پاکستان کا آئین وفاق اور صوبے کے تمام اداروں کو پابند کرتا ہے کہ وہ انتخابات کو شفاف اور غیر جانب دار کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کی مدد کریں جبکہ ڈسکا ضمنی انتخاب سے متعلق انکوائری رپورٹ میں ووٹ چوری کرنے کے لیے پوری سازش تیار کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ کے گھر میں ایک اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کے رہنما شریک تھے اور ضمنی انتخاب میں ووٹ چوری کرنے کے طریقہ کار کو واضح کیا گیا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈسکہ ضمنی انتخاب انکوائری رپورٹ سے مختلف اقتباسات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پولیس انتخابی عملے کی حفاظت نہیں بلکہ اغوا کررہے تھے‘، ہمارے ملک کے صوبہ پنجاب میں الیکشن کی یہ صورتحال ہے، ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ تعلیم انتخابی کرپشن کا حصہ بنے لیکن کیا یہ بات ادھر ہی ختم ہوتی ہے؟ بات دراصل وزیر اعظم عمران خان اور وزیرا علیٰ پنجاب عثمان بزدار پر جاتی ہے، انہیں جواب دینا ہوگا۔انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن 133 صفحات پر مشتمل ڈسکہ ضمنی انتخاب کی انکوائری رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کرے گا اور سخت ایکشن لے گا، امید کرتا ہوں کہ عدلیہ ڈسکہ انکوائری رپورٹ پر ازخود نوٹس لے گی، اس پر وہ کارروائی کریں گے جس کے بعد پاکستان میں کسی کو ووٹ چوری کرنے کا خیال بھی نہ آئے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر آج عدلیہ کچھ کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کا امتحان ہے، اگر عدلیہ عمارتوں، زمینوں، شادی ہالز کی رپورٹس منگواسکتی ہے تو یہ معاملہ تو ڈاکا ہے، اگر انکوائری رپورٹ کو غیر سنجیدگی سے لیا گیا تو مجھے امید نہیں ہے کہ ملک کے حالات ٹھیک ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کی آڑ میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین لانے کا مقصد واضح ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو ادراک ہے کہ انہیں آئندہ عام انتخابات میں تاریخی مار پڑے گی، عمران خان 10 فیصد ووٹ بھی لینے کے قابل نہیں ہوں گے۔
ن لیگ کا ڈسکہ انکوئری رپورٹ پر عدلیہ سے ازخود نوٹس کا مطالبہ



