اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پیمرا کے سینئر ترین افسرا حاجی آدم اپنے ہی ادارےکی اندرونی سازش کا شکار ہوگئے۔سابق ڈی جی پیمرا حاجی آدم کی جانب سے خاتون کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس میں پیشرفت ہوئی۔وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق نے فیصلہ سنا دیا۔وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نےسابق ڈی جی پیمرا حاجی آدم کو نوکری سے برطرف کرنے کا حکم دے دیا۔جبکہ اس کے علاوہ حاجی آدم کو 20 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔


واضح رہے کہ جنوری2020میں خاتون نے ڈی جی پیمرا حاجی آدم کے خلاف جنسی ہراسمنٹ کی درخواست دائر کی تھی۔وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق نے فروری 2020 میں ڈی جی پیمرا کو معطل کرنے کا عبوری حکم دیا تھا۔ڈی جی پیمرا آدم جی کی دو مرتبہ ہائیکورٹ سے رٹ مسترد ہوئی اورصدر مملکت نے بھی حاجی آدم کی اپیل مسترد کردی تھی۔متاثر ہ خاتون سدرا کریم اعوان پیمرا میں ڈیلی ویجز ملازمہ تھیں اوردوران ملازمت ڈی جی پیمرا پر خاتون ملازمہ کوجنسی ہراساں کرنے کا الزام تھا۔
ماضی میں حاجی آدم کی جانب سے کی گئی پیمرامیں متعدد اصلاحات کی گئیں جس سے عالمی سطح پر ادارے کا تشخص بڑھ گیا تھا۔ حاجی آدم نے اپنے دور میں پیمرا کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے جو اقدامات کئے تھے اس سے پاکستان میں الیکٹرانگ میڈیا کو نئی جہت ملی تھی ۔حاجی آدم نے بین الاقوامی نشریاتی اداروں کیساتھ بھی ملکی تشخص اور اس کے اداروں کے وقار کی بہتری کیلئے کئی اقدامات کئے تھے۔ اسی طرح عالمی نشریاتی اداروں کو پہلی بار حاجی آدم نے اپنے دور میں اس بات کا بھی پابند بنایا تھا کہ وہ پاکستان کے تشخص کو منفی انداز میں پیش نہ کریں جبکہ اندرونی طور پر کیبل آپریٹرز اور دیگر پیمرا کا اندرونی مافیا حاجی آدم کے ان اقدامات کے خلاف تھا ۔جبکہ پیمرا کے ذرائع کے مطابق حاجی آدم ایک نیک نام افسرکے طور پر جانے جاتے تھے۔ پیمرا کے ذرائع کے مطابق خاتون سے ہراسانی کا الزام پیمرا ہی کے بعض افسران نے ملی بھگت کرکے لگوایا تھا تاکہ ان کا کیرئیر خراب کیا جا سکے۔
پیمرا کے بعض موجودہ افسران اور سٹاف نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خاتون نے ہراسانی کا الزام بالکل بے بنیاد اور من گھڑت کہانی کے طور پرلگایا تھا تاکہ حاجی آدم کو ان کے عہدے سے ہٹا کر پیمرا میں کرپٹ مافیا کو آگے لایا جا سکے۔



