اخباری اور الیکٹرانک میڈیا مالکان کی موجودگی میں پی ایف یو جے ورکرز کے صدر پرویز شوکت کا دلیرانہ خطاب

اسلام آباد (وقائع نگار) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کی ذیلی کمیٹی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس منعقد ہوئے،قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کی صدارت سابق وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے کی جبکہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات کے اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید نے کی اجلاس میں پی ایف یو جے ، ایپنک ، اے پی این ایس ، پی بی اے ،سی پی این ای کے عہدیداروںاور نمائندوں نے شرکت کی ۔ پی ایف یو جے (ورکرز ) کے صدر پرویز شوکت نے دونوں اجلاسوں میں غریب صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہونے والے مظالم اور ذیادتیوں سے اراکین پارلیمنٹ کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون کی پاسداری غریب اور امیر پر لازم ہے لیکن بڑے دکھ کی بات ہے کہ اس پیشے سے وابستہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو کئی کئی مہینے تنخواہ ادا نہیں کی جاتی جبکہ حضور بنی کریم ؐ کا فرما ن ہے کہ مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو مگر افسوس میڈیا تائیکان پسینہ خشک ہونا تو دور کی بات اپنے ملازمین کا خون نچوڑنے کے باوجود تنخواہیں ادا نہیں کرتے اے پی این ایس کے 277 ممبر ز ہیں ان میں سے 10 -12 مالکان اپنے ملازمین تنخواہیں دیتے ہیں جبکہ تین چار میڈیا مالکان ویج ایوارڈ کے مطابق تنخواہیں ادا کرتے ہیں ، اربوں روپے کمانے کے باوجود ملازمین کو تنخواہیں ادا نہ کرنا آئین ،قانون ،اخلاقیات اور شرعی اصولوںکے منافی اقدام ہیں اور حضور نبی کریم ؐ کی تعلیمات کے شرعین خلاف ورزی ہے ،پی ایف یو جے ورکرز کے صدرپرویز شوکت نے کہا کہ گزشتہ سال اشتہارات میں کمی ہو گئی اور اخباری صنعت میں بحران اور نقصان کا وویلا کیا گیا ہمارا موقف ہے کسی مالک کو نقصان ہو وہ بنک اکائونٹس اور انکم ریٹرنز میں نقصان ثابت کرے تو ہم ہر قسم کی مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں مگر افسوس ہے اور جبکہ مالکان کو نقصان نہیں ہوا ان کے منافع میں کمی ضرور ہوئی گی اس کی آڑ میں ملک بھر کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا سے دوہزار کے لک بھگ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو غیر قانون طور پر نکال دیا گیا اورکئی مالکان نے ان کو نہ تنخواہیں دی اور نہ ہی ان کے واجبات ادا کئےاس سے بڑا ظلم کیا ہوگا، پاکستان واحد ملک ہے جہاں میڈیا مالکان کی اکثریت نہ ملازمین کو بھرتی کرتے وقت تقر ر نامے جاری کرتی ہے اور نہ ہی ملازمین کو نکالنے کے قوانین پر عمل کرتے ہیں ۔ لیبر قوانین میں واضح لکھا گیا ہے کہ کسی ورکرز کو نکالنا ہو اس کو چارج شیٹ دی جاتی ہے اس کی انکوائری ہوتی ہے ملازم کو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کرنے کا موقع دیا جاتا ہے پھر اگر الزام ثابت ہو تو اسے ملازمت سے برطرف کر سکتے ہیں وہ بھی اس کے واجبات ادا کر کے مگر افسوس کہ میڈیا مالکان قوانین پر عملدرآمد کو توہین سمجھتے ہیں اور جب کبھی کسی قانون کے بننے میں ان کو چوٹ لگتی ہے تو وہ اپنے خریدے ہوئے لیڈروں کے ساتھ میدان میں آجاتے ہیں ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمیٹیوں کے چیئرمین ،ارکان پارلیمنٹ اور حکومت میڈیا مالکان کو اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کی ہدایت جاری کریں اور چھانٹیوں کا غیر آئینی سلسلہ بند کیا جائے غیر آئینی طور پر برطرف ملازمین کو بحال کیا جائے پرویز شوکت نے کہا کہ ہماری تنظیم میڈیا ادارے بند کرنے خلاف ہے اگر مالکان کو کوئی جائز شکایات یا مسائل ہیں یا مسائل ہیں تو ہم اس شرط پر ان کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہیں کہ وہ اپنے ملازمین کو ویج بورڈ کے مطابق بر وقت تنخواہیں ادا کریں اور ملازمین کو رکھتے وقت تقرر نامے جاری کریں اور برطر ف کرتے ہوئے قانونی تقاضے پورے کریں پرویز شوکت نے کہا کہ جو ادارے اور مالکان ملازمین کو قانون کے مطابق تنخواہیں ادا کرتے ہیں ان کے ہم شکر گزار ہیں ، پرویز شوکت نے کہا کہ بہت جلد ملازمین کے حقوق کیلئے تحریک شروع کی جائے گی جس میں تنخواہوں کی ادائیگی ،ملازمین کی چھانٹیوں اور آزادی صحافت کا معاملہ سر فہرست ہو گا انہوں نے اس موقع پر وزیر اطلاعات سے مطالبہ کیا کہ نیا قانون بنے گا یا نہیں اس سے قبل آئی ٹی این ای کے چیئرمین کا تقر ر کیا جائے اور اس کا چیئرمین ہائی کورٹ کا جج ہونا چاہئے ، پی ایف یو جے ورکر ز کے صدر پرویز شوکت نے اپنے خطاب میں بڑے دکھ سے یہ بات کہی کہ ہمارے دو ساتھیوں نے تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے خود کشیاں کر لیں مگر کیا ان کا آزادی صحافت یہ ہے کہ کسی بھی بڑے صحافی یا اینکرز نےاپنے پروگراموںمیں خود کشی کرنے والے مظلوم ورکرز کا ذکر تک نہیں کیا جبکہ 2000 سے زائد ملازمین برطرف ہوئے کسی اخبار میںسنگل کالم خبر شائع نہیں ہوئی ،اس کا مطلب ہے آزادی صحافت مالکان کے کنٹرول میں ہیں آزادی صحافت کو مالکان کے کنٹرول سے آزاد کرانے کیلئے ورکرز دوست صحافتی تنظیموں کو جدوجہد کرنا ہو گی ،اور ہماری تحریک کا بھر پور ساتھ دینا ہو گا ، انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری ،وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب ،وفاقی سیکرٹری اطلاعات شاہیرہ شاہد سے مطالبہ کیا کہ سرکاری اشتہارات کو تنخواہوں کی ادائیگی سے مشروط کیا جائے ۔



  تازہ ترین   
پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی ملاقات طے نہیں: ایرانی وزارت خارجہ
سٹیووٹکوف اور جیرڈ کشنر آج مذاکرات کیلئے پاکستان روانہ ہونگے: کیرولین لیوٹ
وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد مذاکرات کیلئے اسلام آباد پہنچ گیا
امریکا سے براہ راست مذاکرات کی درخواست جھوٹ ہے: پاسداران انقلاب
امریکا کے دوسرے ممالک پر فوجی حملے صرف تیل کے لیے ہیں: روس
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
پٹرولیم مہنگائی، گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھانے کا اعلان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے، اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں متوقع





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر