اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پیپلز پارٹی نے آئی ایم ایف کے حکومت کے ساتھ مزید کڑی شرائط مذاکرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکم۔و سیلز ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹیاں بڑھانے کی تجویز کو مسترد کردیا ہے ۔سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر حسین بخاری نے آئی ایم ایف کی شرائط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں مزید مہنگائی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ پی ٹی آئی سرکار معیشت کو دھچکے لگا لگا کر ترقی کو تنزلی میں ” تبدیلی اقدامات اٹھانے سے باز رہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں آئی ایم ایف ٹیم حکومت کو سیلز ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹیز بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے ۔نیر بخآری نے کہا کہ آئی ایم ایف ملازمین حکمران کڑی شرائط پر قرض حاصل کرکے ملکی معیشت کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے چنگل میں جکڑ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نہ جانے کے جھوٹے دعویدار حکمرانوں کو آئی ایم ایف کی جانب سے سالانہ ٹیکس ہدف 63 کھرب کرنے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے۔نیر بخاری نے مزید کیا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے۔آئی ایم ایف کیسے ڈکٹیٹ کر سکتا ہے؟آئی ایم ایف کی تجاویز پر پیپلزپارٹی کو تشویش ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ پیپلزپارٹی آئی ایم ایف کی ان تمام شرائط کو مسترد کرتی ہے۔آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر عملدرآمد کیا گیا تو ملک میں مہنگائی کے سونامی کو آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔نیر بخآری نے مزید کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرنے والے غلام حکمران لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنائے ہوئے ہیں ۔ملک میں پہلے ہی مہنگائی عروج پر ہے۔نیر بخاری نے مزید کہا ہے کہ سلیز ٹیکس اور ریگیولٹری ڈیوٹیز بڑھائی گئیں تو عوام سڑکوں پر ہوگی۔
پیپلزپارٹی کاآئی ایم ایف کے حکومت کے ساتھ مزید کڑی شرائط مذاکرات پر شدید تشویش کا اظہار ،ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹیاں بڑھانے کی تجویز کو مسترد کردیا



