اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اب دوبارہ بیس ہزار ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے۔ ان 20ہزار ملازمین کو نکالنا پارلیمنٹ پر ڈاکہ ہے۔ پارلیمنٹ سپریم ہے اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آوزا ٹھائیں گے اور عدالت میں بھی جائیں گے۔ لوگوں کو محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے روزگار دیا تھا۔ نواز شریف نے انہیں روزگار سے محروم کیا۔

سید یوسف رضا گیلانی نے ان ملازمین کو دوبارہ بحال کیا۔ اب انہیں دوبارہ بیروزگار کر دیا گیا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں یہ جو وزیر ہمارے الیکشن کمیشن کو گالی دے رہا جو زبردستی اختیار چھیننا چاہتے ہیں ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اپنے اختیارات جو کہ پیپلزپارٹی نے الیکشن کمیشن مضبوط بنانے کے لئے دلوائے آپ اپنا اختیار استعمال کریں۔ نااہل کرو ہر وہ شخص جنہوں نے ہمارے الیکشن کمیشن پر حملہ کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کروڑ لعل عیسن میں اپنے خطاب میں پی پی پی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے کہاکہ عوام کو تخت لاہور اور سلیکٹڈ راج نہیں چاہیے۔ عوام پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں، سلیکٹڈ کو بھگا دیں گے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ آج لیہ کے عوام نے میرا دل جیت لیا ہے۔

جتنا باہر جلسہ ہے اتنا ہی اندر جلسہ ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ آپ لوگوں نے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دیا، آپ نے بی بی شہید کا ساتھ دیا، آپ نے مرد حُر آصف علی زرداری کا ساتھ دیا، اب ہمارا تین نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالوں کا شکرگزار ہوں ۔ ہم آج مل کر وہ جو منشور جو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے دیا تھا جو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے سکھایا تھا جو غریبوں کا منشور ہے، کسان کا منشور ہے انشااللہ تعالیٰ ہم مل کر اس پر عمل کریں گے۔ میں شکرگزار ہوں سردار بہادر خان کا کہ انہوں نے ہمیں دعوت دی لیہ بلایا، ہمارے لئے جلسہ رکھا اور اعلان کیا ہے کہ وہ پھر سے پاکستان پیپلزپارٹی کا حصہ بن رہے ہیں، اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اب انشااللہ تعالیٰ ہم ساتھ مل کر مزید طاقت پکڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ساتھ مل کر مستقبل میں لیہ کے عوام کی خدمت کریں گے۔ ساتھیوں ہم کچھ دنوں سے پورے وسیب کا دورے پر ہیں، ہم ملتان سے شروع ہوئے ، ڈی جی خان پہنچے، ڈی جی خان کے جلسے کے بعد ہم وہاڑی پہنچے، وہاڑی کے بعد ہم لودھراں پہنچے، لودھراں کے بعد دو دن رحیم یار خان میں رہے اور رحیم یارخان کے بعد ہم آپ کے پاس آئے ہیں، لیہ پہنچے ہیں۔

اور ہمارا یہ جو مختصر دورہ تھا اس سے بنی گالہ کو تکلیف ہورہی ہے، جیالوں کو دیکھ کر بنی گالہ کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر بنی گالہ خوش نہیں تو ہمارے کچھ دوست بھی خوش نہیں، کہ پیپلزپارٹی کیا کر رہی ہے۔ جہاں ہمارے دوست میدان چھوڑ چکے ہیں، ہمارے اتحادی پنجاب میں عمران کو فری ہینڈ دیا ہے وہاں پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے وسیب کے عوام کو پنجاب کے عوام لاوارث نہیں چھوڑ سکتے۔ اس صوبے کے عوام کے ساتھ اس خطے کے عوام کے ساتھ ، اس سرزمین کے عوام کے ساتھ تاریخی ظلم ہو رہا ہے۔ آپ تاریخی مہنگائی کا مقابلہ کر رہے ہو، تاریخی غربت اور بیروزگاری کا مقابلہ کر رہے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہر دن ایک نیا معاشی بم پھٹتا ہے، کبھی وہ تیل کی قیمت میں اضافہ کرتے ہیں، پھر بجلی کی قیمت میں اضافہ کرتے ہیں، پھر گیس کی قیمت میں اضافہ کرتے ہیں، ٹیکسز کا طوفان کھڑا کر دیتے ہیں، یوریا کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، آپ کا یہ ٹیوب ویل ہے اس کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، ہمارے وسیب کے عوام پریشان ہیں۔ اور میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ ترس رہے ہیں۔ عوامی حکومت کے لئے ترس رہے ہیں۔ قائد عوام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی ، جیالوں کی حکومت کو ترس رہے ہیں۔ انہوں نے بہت مشکل وقت گزارا ہے، انہوں نے پہلے تخت رائے ونڈ کا راج برداشت کیا، آج وہ سلیکٹڈ راج بھگت رہے ہیں۔ یہاں کے عوام کا مطالبہ ہے کہ ان کو عوامی راج چاہیے، ان کو معلوم ہے، قائد عوام کا عوامی راج تھا جب شہید رانی کا عوامی راج تھا، جب مرد حر صدر آصف علی زرداری کا عوامی راج تھا تو وہ غریبوں کا راج تھا، وہ کسانوں کا راج تھا، وہ محنت کش مزدوروں کا راج تھا۔ قائد عوام نے غریبوں کو حقوق دلائے تھے۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ کب سے اس صوبے کو سازش کے تحت پیپلزپارٹی کی حکومت سے عوامی حکومت سے محروم رکھا گیا۔ جب پیپلزپارٹی کا دور تھا قائد عوام کا دور تھا یہاں کے بزرگ یاد کرتے ہیں کہ قائد عوام نے یہاں کے عوام کو، کسانوں کو، یہاں کی زمینوں کا مالک بنایا۔ یہاں کے بزرگوں کو یہ یاد ہے کہ جب قائد عوام کا دور تھا تو انہوں نے مزدوروں کو ملوں کا مالک بنا دیا تھا۔ یہاں کے عوام کو یاد ہے کہ شہید بی بی کے احسان یاد ہیں، ان کو یاد ہے بی بی کی یہ تو بات عام ہے کہ بینظیر آئے روزگار لائے گی، ان کو یاد ہے شہید بی بی نے جہاں مردوں کو روزگار دیا تھا وہاں خواتین کو بھی روزگار دلوایا تھا، شہید بی بی ہمیشہ غریبوں کا خیال رکھتی تھیں جیسے اپنے بچوں کا خیال رکھتی تھیں ویسے ہیں ماں بن کر اس ملک کے غریب عوام کا خیال رکھتی تھی۔ یہاں کے عوام کو یاد ہے کہ مرد حر صدر زرداری جب صدر تھے تو انقلابی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا اور اس ملک کی غریب خواتین کو مالی امداد ملنا شروع ہوگئی تھی۔ یہاں کے کسان کو یاد ہے کہ جب مردحر صدر زرداری کی حکومت تھی کسان خوشحال تھا، جب پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تو ہم باہر کے کسان کا مال نہیں خریدتے تھے ہم یہاں کے کسانوں سے فصل خریدکر بین الاقوامی ممالک کوبرآمد کرتے تھے اور اب خان صاحب کے دور میں چینی بھی درآمد کر رہے ہو، گندم بھی درآمد کر رہے ہو۔ جب تک پیپلزپارٹی کا دور تھا تو تنخواہوں میں بھی اضافہ 100 فیصد، پنشن میں بھی اضافہ ہوتا تھا، 120فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا تھا اس کے بعد میاں صاحب کا دور دیکھا، خان صاحب کا دور دیکھا ابھی تک تنخواہ بھی وہی ہے آپ کی پنشن میں بھی اضافہ نہیں ہوا یہ کس قسم کا ظلم ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم ان کو جو محنت کر رہے ہیں روزگار کر رہے ہیں ان کی محنت کا صلہ نہیں دلوا سکتے۔ آپ کے ساتھ جو ناانصافی ہو رہی ہے، جو ظلم ہو رہا ہے ہم وہ اور برداشت نہیں کر سکتے اسی لئے ہم آپ کے پاس آئے ہیں۔ آپ پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں، ہم اس عمران کو گھر بھیجیں گے، ہم نے سلیکٹڈ کو نکالنا ہے۔ پاکستان کے مسائل حل کرنے ہیں، ہم نے کٹھ پتلی سے حساب لینا ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا نہ صرف خان صاح اپنے وعدے سے یوٹرن لے چکا ہے کہا تھا کہ میں ایک کروڑ نوکریاں دوں گا، آج تک لیہ میں کیا آپ کو نوکری ملی ہے؟ جن کے پاس پہلے روزگار تھا ان سے بھی چھین لیا ہے۔ وہ جو دس ہزار خاندان اسٹیل ملزمیں کام کرتے تھے ان کو اس حکومت نے بیروزگار کر دیا جو بیس ہزار خاندان شہید بی بی نے جن کو 90کی دہائی میں روزگار دلوایا تھا ان کو پھر ایک بار بیروزگار کر دیا گیا یہ کس قسم کا نیا پاکستان ہے؟ یہ کس قسم کا انصاف ہے جو اپنی پوری زندگی اس ملک کی خدمت کرے ان کو کس بیدردی کے ساتھ بیروزگار کر دیا جاتا ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ یہ شہید بی بی کا دیا ہواروزگار ہے یہ شہید بی بی کی امانت ہے۔ انشااللہ تعالی پیپلزپارٹی کے یہ جیالے اب مزید ظلم نہیں کرنے دیں گے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ میاں صاحب نے بھی اپنی حکومت میں انہیں لوگوں کو بیروزگار کر دیا تھا۔ پھر جب سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنے تو ان 20ہزار خاندانوں کو بحال کر دیا۔ اگر آج ان کو پھر نکالا جا رہا ہے یہ آپ کے حق روزگار پر ڈاکہ ہے اوریہ پارلیمان پر بھی ڈاکہ ہے اگر پارلیمان نے کسی کو نوکری دی ہے جو سپریم انسٹی ٹیوشن ہے اس نے کسی کو روزگار دیا ہے تو کوئی نہیں چھین سکتا۔ انشااللہ ہم آپ کے ساتھ مل کر تحریک چلائیں گے۔ ہم اپنے جیالوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں تحریک چلائیں گے اور بحال کرائیں گے۔ یہ پیپلزپارٹی کا وعدہ ہے کہ گلگت سے لے کر کراچی تک ہمارا ان سے وعدہ ہے پیپلزپارٹی کی حکومت آ رہی ہے ہم ان کو بحال کریں گے اور مزید نوجوانوں کو نوکریاں دیں گے۔ آج پاکستان پیپلزپارٹی رہ گئی ہے جو اس سلیکٹڈ کا مقابلہ کرے گی۔ جو کٹھ پتلی کو للکار رہے ہیں۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ یہ پورے پاکستان کا نعرہ ہے، یہ پورے پاکستان کے عوام کا مطالبہ ہے کہ گو عمران گو، گو عمران گو۔ ہم نے گیلانی صاحب کو سینیٹ میں منتخب کرا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ خان صاحب کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ خان صاحب کا حق ہی نہیں کہ وہ اس ملک پر حکمرانی کرے۔ ہمارے دوستوں ہمارے اتحادیوں سے مطالبہ ہے کہ اٹھو کھڑے ہو جائیں شیر بنیں، نکلو جدوجہد کرو۔ ہم نے آپ کو راستہ دکھا دیا ہے آپ اپنے ووٹ کی عزت کروں اور ووٹ کو استعمال کرو، عدم اعتماد لے کر آؤ۔ کٹھ پتلی بزدار کو بھی گرائیں گے آگے آؤ ہمارا ساتھ دو پنجاب کے عوام کا ساتھ وو، پنجاب کے عوام کو اس طرح لاوارث نہیں چھوڑا جا سکتا۔ عدم اعتماد بزدار کے خلاف اور پھر عمران کے خلاف۔ ہم جب عدم اعتماد عمران خان کے خلاف لے کر آئیں گے ہم نے آپ کو پہلے سے دکھا دیا یوسف رضا گیلانی کی شکل میں کہ ہم اسے گرا سکتے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں ایک دن بھی اور آپ کا وزیراعظم رہے۔ اگر ن لیگ چاہے اور مولانا چاہے تو کل ہم اس کو گرا سکتے ہیں، ہم اس کو نکال سکتے ہیں، ہم عوام کو اس تکلیف سے نکال سکتے ہیں۔ میرا پیپلزپارٹی کے جیالوں کو پیغام ہے کہ ہم جگہ جگہ آرہے ہیں آپ تیاری پکڑو جدوجہد کو تیز کروں، میں گاؤں گاؤں پہنچوں گا شہر شہر پہنچوں گا۔ ہم نیازی کو للکاریں گے کٹھ پتلی کو بھی للکاریں گے اور ہم اپنے اتحادیوں کو بھی دعوت دیں گے وہ بھی ساتھ آئیں اور مل کر خان صاحب کو گھر بھیجیں۔ آپ کو یاد ہے کہ قائد عوام نے یہ نعرہ دیا تھا کہ مانگ رہا ہے ہر انسان، روٹی، کپڑا اور مکان۔ یہ قائد عوام کا دعویٰ تھا اور عمران کان چھین رہا ہے۔ روٹی بھی چھین رہا ہے اور مکان بھی چھین رہا، کپڑے بھی چھین رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو وعدے میرے بڑوں نے آپ سے کئے تھے وہ میں پورے کرنا چاہتا ہوں، آپ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کا صوبہ بنے گا تو میں آپ کے ساتھ مل کر وہ صوبہ بنانا چاہتا ہوں۔ قائد عوام نے کہا کہ اس عوام کی قسمت میں ہمیشہ غریب رہنا نہیں لکھا میں آپ کے ساتھ مل کر پاکستان کے عوام کو غربت سے نکالوں گا۔ آپ نے قائد عوام کا ساتھ دیا، بی بی شہید کا ساتھ دیا تو انہوں نے ملک کی تاریخ بدلی تھی آج ایک بار میں پھر آپ کے پاس آیا ہوں آپ میرا ساتھ دیں ہم مل کر مل کی تاریخ بدلیں گے۔ آپ کی جدوجہد سے ہم ایک جیالا وزیراعظم بھی بنائیں گے اور ایک جیالا وزیراعلیٰ بھی بنائیں گے انشااللہ تعالیٰ۔ خان صاحب ایک مرتبہ پھر آپ کے ووٹ پر ڈاکہ مارنا چاہتا ہے، یہ آج کل الیکشن کمشنر اور پاکستان پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ الیکشن کمیشن اب حکومت کے نشانے پر ہے، میں الیکشن کمیشن کو بتایا چاہتا ہوں کہ یہ پاکستان کے عوام آپ کے ساتھ ہیں آپ ڈٹے رہو، جمہوریت کی بات پر، صاف اور شفاف الیکشن کی بات پر، آپ صاف اورشفاف الیکشن کروائیں گے یہ عوام آپ کے ساتھ ہے آپ کے پیچھے کھڑے رہیں گے۔ آپ اگر دھاندلی ہونے دیں گے تو یہ عوام آپ کو معاف نہیں کرے گی۔ جس طریقے سے یہ حکومت الیکشن کمیشن پر حملے کر رہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ توہین ہے، اگر عدلیہ کی توہین ہو سکتی ہے تو الیکشن کمیشن کی بھی توہین ہو سکتی ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ملتان سے ہیڈ محمد والا روڈ پر اڈا پٹھان ہوٹل کے قریب پہنچے تو ہزاروں کی تعداد میں عوام نے ان کا استقبال کیا اور فضا وزیراعظم بلاول کے نعروں سے گونج اٹھی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری عوام کے استقبال کا خیرمقدم کرنے کے لئے گاڑی سے باہر آئے تو انہیں روایتی پگڑی پہنائی گئی اور پھول کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا استقبال کرنے کے لئے خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ مظفرگڑھ میں کوٹ ادو کے قریب چوک سرور شہید پہنچنے پر بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بے مثال استقبال کیا گیا۔ حد نگاہ تک عوام ہی عوام نظر آئے جو بلاول بھٹو زرداری کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ اس طرح ریاض آباد آمد کے موقع پر سڑک کے دونوں اطراف کئی کلومیٹر تک عوام کی قطاریں تھیں۔ عوام کے جذبات دیکھ کر چیئرمین پیپلزپارٹی گاڑ ی سے باہر آگئے اور خیر مقدم کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس طرح لیہ پہنچنے پر چوک اعظم کے مقام پر بھی عوام کی بہت بڑی تعداد نے چیئرمین پیپلزپارٹی کا شاندار استقبال کیا۔ چوک اعظم پر مختصر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور فضا بلاول بلاول کے نعروں سے گونج اٹھی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ لیہ پہنچنے پر انہیں بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ میں اپنے دوستوں اور حامیوں کے درمیان موجود ہوں۔ آپ کا جوش و جذبہ دیکھ کر تختہ رائے ونڈ ہو یا تخت بنی گالہ دونوں گھبرا رہے ہیں کہ پنجاب کی سرزمین پر وسیب کی سرزمین پر بھٹو زندہ ہے، بی بی زندہ ہے۔ پیپلزپارٹی کے جیالے زندہ ہیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے بہادر خان سیہڑ کا شکریہ ادا کیا جس نے پیپلزپارٹی جائن کی ۔ فتح پور پہنچ کر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زردری کا تاریخی استقبال کیا گیا۔ فضا جئے بھٹو، جئے بینظیر اور وزیراعظم بلاول سے گونج اٹھی۔ فتح پور کے مقام پر خواتین کی بھی بہت بڑی تعداد بلاول بھٹو زرداری کے استقبال کے لئے موجود تھیں۔ بلاول بھٹو زرداری عوام کی محبت اور جذبات دیکھ کر گاڑی سے باہر نکل آئے اور انہوں نے خطاب کیا۔ انہوں نے یہاں بھی مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام کا جوش و جذبہ بتا رہا ہے کہ یہاں کے عوام سلیکٹڈ کو بھگانے کے لئے بالکل تیار ہیں۔ میں یہاں کی خواتین کو سلام پیش کرتا ہوںجنہوں نے جلسے میں آکر میرا استقبال کیا۔ میں آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آپ اپنی تیاری شروع کریں اور جدوجہد تیزکریں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زداری کا کروڑ لعل عیسن پہنچنے پر منفرد انداز میں استقبال کیا گیا۔ سڑک کے دونوں اطراف لوگ پیپلزپارٹی کا پرچم تھامے گھوڑوں پر سوار کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ کروڑ لعل عیسن میں سیہڑ ہاؤس میں شہید رزاق جھرنا جنہیں ضیاءکی آمریت کے دوران پھانسی دے دی گئی تھی کے بھائی مشتاق جھرنا نے چیئرمین پیپلزپارٹی سے ملاقات کی۔



