تحریر: تحمید صادق
پاکستان کرکٹ بورڈ کو آخر کار ایک سابق کھلاڑی بطور چیئرمین میسر آگیا۔عمران خان نے اپنے پچھلے بیان کے بر عکس بطور وزیر اعظم رمیز راجہ کو چیئرمین کرکٹ بورڈنامزد کر دیا۔رمیز راجہ کی نامزدگی پر دو مختلف آراء اور ردِعمل سامنے آئے ہیں مگر میری دانست میں یہ بہت راست فیصلہ ہے۔رمیز راجہ کا کرکٹ کیرئیراورتجربہ تقریبا اُن کی عمرجتنا ہی ہے۔ اُنہوں نے پاکستان میں اور پاکستان سے باہر ہرلیول کی کرکٹ کھیلی ہے اور یہ اُن چند کھلاڑیوں میں سے ہیں جو اپنی ریٹائرمنٹ سے اب تک کرکٹ کی دُنیاسے مُنسلک ہیں۔کرکٹ بطور کھیل کے علاوہ اُن سے جُڑے تمام لوگ چاہے آئی سی سی یا دوسرے کرکٹ بورڈز کے آفیشلز ہوں سب کے ساتھ رمیز راجہ کاکمفرٹ لیول ہے حتی کہ وہ نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والے نوجوان کرکٹرز کے ٹیلنٹ بارے بھی بخوبی جانتے ہیں۔ چونکہ وہ کرکٹ کے ہرمیدان میں کمنٹیٹرکی حیثیت سے موجود رہتے ہیں اس لیے وہ کھیل اور کھلاڑیوں کی مہارت سے بھی واقف ہیں۔ سابق پاکستانی کرکٹر ہونے کے ناطے سے ہماری فرسٹ کلاس کے ڈھانچے اور اس کی پیچیدگیوں سے بھی بدرجہ اُتم واقف ہیں۔اب ان پر منحصر ہے کے وہ اپنے کپتان کے خواب کو کس طرح حقیقت میں بدلتے ہیں یا پھر وسیم اکرم پلس ثابت ہوتے ہیں۔ گُڈ لک رمیز راجہ – گُڈ لک پاکستان کرکٹ۔
گڈلک رمیز راجہ



