پچھتاوا

تحریر:عابد حسین قریشی
حضرتِ انسان کے ساتھ کچھ باتیں جبلّی طور پر منسوب ہیں۔ اُسکے کردار کا اٹوٹ انگ ہیں۔ لازم و ملزوم ہیں۔ اُن میں ایک پچھتاوا یا regret بھی ہے۔ یہ پچھتاوا کسی عہدہ کے چھن جانے کا، کسی دیرینہ تعلق کو توڑنے کا، کسی جرم کے بعد المیہ نتائج کا، کسی غیر ضروری، نامناسب اور لا یعنی بات کرنے کے نتائج کا، کسی مخلص اور دیرینہ ساتھی کے دل توڑنے کا، کسی غصّہ اور جھنجھلاہٹ میں ساری اخلاقی حدیں پار کر جانے کا بھی ہو سکتا ہے اور زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے پیچھے رہ جانے کا بھی ہو سکتا ہے۔ جیلوں کی انسپکشن کے دوران کئی ایسے قیدیوں کو ملنے اور اُنکی افسوس ناک اور کربناک کہانیاں سُننے کا بھی اتفاق ہوا۔ سزائے موت کے بعض قیدیوں کو یہ پچھتاوا تھا کہ کاش وقوعہ کے وقت ہم ہوائی فائرنگ کر کے خوف و ہراس نہ پھیلاتے اور لوگ وہاں سے بھاگنے پر مجبور نہ ہوتے تو بروقت زخمیوں کو طبی امداد ملنے کی صورت میں اُنکی جان بچ جاتی اور ہم سزائے موت سے بچ نکلتے۔ کسی کو یہ پچھتاوا تھا کہ اگر چھری کا زخم پیٹ کی بجائے ٹانگوں پر یا جسم کے کسی غیر حسّاس حصّہ میں لگتا تو مقتول بچ سکتا تھا۔ غیرت کے نام پر قتل کرنے والے جیل میں جانے کے بعد اپنی اُسی غیرت پر ماتم کرتے نظر آئے۔ اسی طرح وہ قیدی جو بہت معمولی بات پر فوری اشتعال اور غصّہ میں نتائج سے بے پرواہ ہو کر جرم کر بیٹھے، اپنی اس نا سمجھی پر پشیمان نظر آئے۔

اس سے بھی زیادہ دردناک، افسوس ناک اور کرب ناک مناظر روزانہ ہماری فیملی اور گارڈین کورٹس کے برآمدوں میں نظر آتے ہیں کہ شادی جیسے مقدس اور اٹوٹ بندھن میں بندھے جوڑے بہت معمولی باتوں پر اپنی انا کی بھینٹ پر اس رشتے کو توڑنے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات اتنی چھوٹی چھوٹی اور غیر متعلقہ باتیں ہوتی ہیں مگر عدم برداشت، انا، ضد اور ہٹ دھرمی آڑے آتی ہیں۔ اور شادی کے اس مضبوط بندھن میں دراڑیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ بڑا ہی روح فرسا منظر ہوتا ہے جب ناراض میاں بیوی کے روشن آنکھوں والے معصوم بچے حسرت و یاس کی تصویر بنے عدالتی برآمدوں کو گھورتے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے والدین کے درمیان ہونے والی بدمزگی یا ناچاقی کا سبب نہیں ہوتے مگر سب سے متاثر وہی ہوتے۔ ایسے بچے جنہوں نے بچپن میں اپنے والدین کو عدالتی احاطوں میں ایک دوسرے پر برسرپیکار طعن و تشنیع کے نشتر چلاتے، گالم گلوچ کرتے، مار پیٹ کرتے اور دُشنام طرازی کی ساری حدیں پھلانگتے دیکھا ہو وہ اس معاشرہ کے لیے کیا مفید اور کارآمد شہری ثابت ہونگے۔ وہ بقیہ عمر احساسِ کمتری اور پچھتاوا کی اُس بھٹی کا ایندھن ہونگے جس کی آگ اُن کے والدین نے خود جلائی تھی۔ گارڈین کورٹس کے ساتھ واقع کمرہ ملاقات visitation room میں نا بالغان اور اُنکے والد کی ملاقات کا منظر بڑا روح فرسا ہوتا ہے۔ عموماً یہ بچے اپنی ماؤں کی تحویل میں ہوتے ہیں کہ عمومی طور پر ہمارے فیملی لاز اور گارڈین شپ کے ضابطے عورت کو مرد پر ترجیح دیتے ہیں۔ بہرحال جب بچے عدالتی حکم پر اپنے والد کے ساتھ ملاقات کے لیے پیش کیے جاتے ہیں تو بہت سے تو والد کو پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں کہ بچہ تو possession کا ہوتا ہے۔ لہٰذا جس کے قبضے سے وہ عدالت میں آئے گا وہ اُسی کے مطابق بات کرئے گا۔ بعض اوقات والد کی طرف سے لائے گئے بڑے قیمتی تحائف نیچے زمین پر رُل رہے ہوتے ہیں۔ اور والد حسرت و یاس کی تصویر بنے نمناک آنکھوں سے بے بس نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات ماؤں کی دلخراش چیخیں اور آہ و بکا عجیب کرب ناک منظر بنا دیتی ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے۔ کون ذمہ دار ہوتا ہے۔ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ البتہ یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے غیر لچک دار رویّے، ہماری جھوٹی انا، والدین کا شادی شدہ اولاد کے معاملات میں بے جا مداخلت، معاشرتی و معاشی ناہمواریاں، عدم برداشت، چھوٹی اور معمولی باتوں پر درگزر کرنے کی بجائے انا کا مسلۂ بنا لینا، عورت کو اپنے سے کمتر سمجھنا، حرص، لالچ، غرض، ناروا مطالبات اور کیا کیا گنوائیں۔ سبھی اس رشتہ کو کمزور، بے معنی اور توڑنے کا سبب بنتے ہیں۔ اور آخر میں صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے۔ بچے رُل جاتے ہیں سچی بات تو یہ ہے کہ جب میاں بیوی کے راستے جدا ہوتے ہیں۔ وہ یتیمی سے ابتر حالت میں چلے جاتے ہیں۔ اکثر مرد دوسری شادی رچا لیتے ہیں۔ اگر عورت ابھی جوان ہے تو اُسکی شادی کے امکانات بھی ہوتے ہیں مگر اکثر بچوں کی خاطر قربانی کر جاتی ہے۔ والد کی دوسری شادی یا دونوں کی دوسری شادی کی صورت میں ذرا چشم تصوّر سے اُن معصوم، بے کس و لاچار بچوں کا خیال ذہن میں لائیں کہ جو اب دوسروں کے ٹکروں پر پلیں گے۔ حبس بے جا کی ایک درخواست کا فیصلہ کرتے ہوئے وہ کربناک منظر کبھی نہ بھلا پایا کہ جب ایک نو دس سالہ۔ بچے کے ماں باپ نے دوسری شادیاں کر رکھی تھیں۔ ماں نے دو بچے قبول کر لیے مگر اُس تیسرے کو لینے سے انکار کر دیا۔ باپ نے بھی اُسے رکھنے سے معذرت کی۔ اب اس بچے کا کیا مستقبل تھا۔ کسی یتیم خانہ میں ہی بھجوانا پڑا۔ البتہ والدین کی موجودگی میں اُس لاوارث بچہ کی آنکھوں میں تیرتے آنسو اور چہرے سے بے چارگی اور بے بسی کے آثار کو بھلانے سے بھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ یہ ہیں وہ ہولناک نتائج جو ہماری وقتی اور غیر داشمندانہ حرکات کے سبب شادی کا بندھن ٹوٹنے پر ہوتے ہیں۔ اور بقیہ عمر کے لیے پچھتاوا بن جاتے ہیں۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر