اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ اور برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری افغانوں کی سماجی اور اقتصادی معاونت یقینی بنائے۔تفصیلات کے مطابق سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے افغانستان میں فلاح و بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے کردار کو سراہا اور افغانستان سے انخلاء پر پاکستان کی معاونت سے آگاہ کیا۔سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے افغانستان میں فلاحی اداروں کی معاونت پر پاکستانی قیادت کا شکریہ اداکیا۔وزیر خارجہ نے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو پاکستان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔دوسری طرف وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا برطانویہم منصب ڈومینک راب کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ تعلقات ،افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ ء خیال کیا ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی ہم منصب کو، جرمنی، ہالینڈ ،بیلجیئم ،ڈنمارک ، سویڈن اور یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ سے افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے حالیہ روابط سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ، برطانیہ سمیت افغانستان سے واپسی کے منتظر،مختلف ممالک کے سفارتی عملے، بین الاقوامی اداروں کے ورکرز اور میڈیا نمائندگان کے جلد انخلاء کیلئے، بھرپور معاونت فراہم کر رہا ہے۔برطانوی وزیر خارجہ نے کابل سے برطانوی شہریوں کے انخلاء میں پاکستان کی معاونت کو سراہتے ہوئے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی ہم منصب کے ساتھ “ریڈ لسٹ” کا معاملہ اٹھایا اور “ریڈ لسٹ “کے باعث برطانوی پاکستانیوں اور طلباء کو درپیش سفری مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کورونا وبا کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے، ہمیں توقع ہے کہ برطانوی حکومت، اس صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے،پاکستان کو “ریڈ لسٹ” پر رکھنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے لگائے گئے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے،افغانستان میں اچانک تبدیل ہونے والی صورتحال سب کیلئے حیران کن تھی، طالبان کی جانب سے، جنگ کے خاتمے، عام معافی کے اعلان، انسانی حقوق کے تحفظ اور افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہ کرنے کے حوالے سے منظر عام پر آنے والے بیانات، حوصلہ افزا ء ہیں،پاکستان کیلئے، قریبی ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے، پر امن اور مستحکم افغانستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ فی الوقت ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانوں کی سیکیورٹی اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،پاکستان، افغانستان میں اجتماعیت کے حامل، جامع سیاسی تصفیے کا حامی ہے،عالمی برادری، ماضی کی غلطیوں سے اجتناب کرتے ہوئے ، افغانستان کو تنہائی کا شکار نہ ہونے دے،اور ان کی معاونت کو یقینی بنائے۔مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس نازک مرحلے پر، ہمیں ایسے عناصر سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جو امن کاوشوں کو سبوتاژ کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
عالمی برادری افغانوں کی سماجی اور اقتصادی معاونت یقینی بنائے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کابرطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب کے ساتھ ٹیلی فونک



