اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) پاکستان نے بھارت کے داسو حملے میں ملوث نہ ہونے کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے داسو دہشت گرد حملے میں ملوث نہ ہونے کا مضحکہ خیز بیان مسترد کرتے ہیں، پاکستان متعدد مرتبہ یہ ناقابل تردید شواہد سامنے لاچکا ہے کہ بھارت پاکستان میں نہ صرف دہشت گردی کرانے بلکہ اس کی منصوبہ بندی، معاونت و مدد اور سرپرستی میں بھی ملوث ہے۔ترجمان نے کہا کہ گزشتہ برس عالمی برادری کو اس ضمن میں ٹھوس شواہد پر مبنی دستاویزات فراہم کرچکے، حال ہی میں لاہور حملے میں بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق ثبوت بھی ہم نے پیش کیے ہیں، پاکستان کے خلاف بھارتی ریاستی دہشت گردی کا ناقابل تردید چہرہ کمانڈر کلبھوشن یادیو ہے جو مارچ 2016 میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔ترجمان دفتر خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کو استعمال کرنا بند کرے، پاکستان خطے کے امن وسلامتی کو خطرے سے دوچار کرنے والی بھارتی فتنہ انگیزیوں کو بے نقاب اور ان کی مخالفت کرتا رہے گا۔ ترجمان نے کہا کہ کوئی بھی جدید ریاست اپنے آپ سے اتنی متصادم نہیں جتنی کہ بھارتی ریاست ہے، نام نہاد ’سب سے بڑی جمہوریت‘ کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے، ’ہندوتوا‘ نظریے کے پیروکار اور نفرت اور تشدد کو ہوا دینے کا عمل شرمناک ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 1947ء میں آزادی کے پس منظر میں پیش آنے والے المناک واقعات اور بڑے پیمانے پر ہجرت کی بجائے تصویر کا یکطرفہ رخ پیش کیا جاتا ہے، تاریخ کو مسخ کرنا اور فرقہ واریت کو ہوا دینا آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت کی خاص خوبی ہے، پرانے زخموں کو بھرنے کی بجائے نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں۔
بھارت کے داسو حملے میں ملوث نہ ہونے کے مضحکہ خیز بیان کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان



