سرجیوو(آئی این پی ) بوسنیا کے سرب رہنماوں نے بوسنیا ہرزیگوینا میں 1995 میں ہونے والے مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی ماننے سے ایک بار پھر انکار کردیا ہے۔ خیال رہے کہ 11 جولائی سنہ 1995 کو بوسنیائی سرب فوجیوں نے سرب کمانڈر راتکو ملادچ کی قیادت میں بوسنیا ہرزیگووینا میں سربرینیکا کے قصبے پر قبضہ کر لیا اور دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں سرب فورسز نے منظم انداز میں 8000 سے زائد بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کر ڈالا تھا۔ بوسنیا ہرزیگوینا کے لیے اقوام متحدہ کے اعلی بین الاقوامی عہدے دار ویلنٹین انزکو نے جمعہ کو بلقان کے ملک میں نسل کشی کے انکار پر پابندی عائد کردی تھی تاکہ بوسنیا کے سربوں کی جانب سے اس کو رد کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔
سربوں کا بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی کو ماننے سے ایک بار پھر انکار



